اتوار، 31 مئی، 2015

زہرپیالے

3 تبصرے



وقت کے ساتھ تیز رفتاری سے غذائیں اورمشروبات بھی نئی شکلوں میں سامنے آنے اور مقبول ہونے لگے اب ہم فرج میں سے کوک نکال کرخودبھی پیتے ہیں اور مہمانوں کی تواضع بھی کرتے ہیں-  یہ سوڈا مشروبات بچوں کو بہت بھاتے ہیں اور وہ ان کو دیکھ کرمچلنے لگتے ہیں - ایک وقت تھاان مشروبات کی اتنی مانگ نہیں تھی ہمارے گھروں میں ان کا آنا کبھی کبھار ہوتا تھا بات مہینوں پہ جاتی تھی - ایک کوک کی بوتل آتی تھی جس میںحصے لگائے جاتے اور چند گھونٹ بچوں کے حصے میں آتے - مہمانوں کو اکثر سکنجبین ، ٹھنڈا پانی، روح افزاء اور گھریلو مشروبات ،  گھر پہ تیارکردہ بادامکا شربت یا پھلوں کا رس پیش کیا جاتا - خاطرتواضع کے لیے بہت زیادہ تکلفات اور بازار کی اشیاء کا اہتمام نہیں ہوتا تھا - موسمی پھل لے کر دوسروں کےہاں جانا اور انھیں اپنے گھر میں بھی پیش کیاجاتا- 
 سادہ غذائیں اور مشروبات کے استعمال کی جاتی جو کم خرچ بھی اور فائدہ مند بھی تھیں - صعنتی ترقی اور تیزرفتاری نےہمیں  جھٹ پٹ اشیاء سے روشناس کرایاٹی وی اور اخباری اشتہارات نے ان کی اشتہا کو بڑھاوا دیا اور ہم نے اپنے گھروں میں سوڈا مشروبات کے لانا زیادہ شروع کردیا بازار کی تیار کردہ اشیاء کےمعیار اور حفضان صحت کے اُصولوں کو نظر انداز کیا - اب ہم سوڈا مشروبات کا استعمال پانی کے طرح کرتے ہیں مہمانوں کوگلاس بھر بھر کے پیش کرتے ہیں ، ہمارے بچے بھی اسے کثرت سے پیتے ہیں ، کئی گھرانوں میں تو شیرخوار بچوں کو ان کی دودھ کی بوتل میں بھی یہ مشروبات پلادینا کو ئی بڑی بات نہیںاب بیماریاں  عام ہیں بچوں سے لے کر بڑے تک ذرا سے موسم کی تبدیلی کو برداشت نہیں کرپاتے اورمعدافتی نظام کمزور ہونے کے باعث جلد علیل ہوجاتے ہیںجس کا ایک بڑا سبب ہمارے استعمال میں کثرت سےہونے والی غیرمعیاری غذائیں اور سوڈا مشروبات ہیں -سوڈا مشروبات کے  چند نقصانات پر ہی ہم نظر ڈال لیتے ہیں
1-کاربن ڈائی آکسائیڈقدرت اس زہریلی گیس کو جو خون کے ایک فضلے کی مانند ہے سانس کے ذریعے پھپھڑوں سے باہر نکالتی ہے لیکن پیپسی اور کوکاکولا میں پانی
میں اس گیس کو گزار کر جذب کیا جاتا ہے جسے ہم منہ کے ذریعے اپنے معدے میں اتار دیتے ہیں اس گیس کو پانی میں گزارنے کے فعل سے کاربالک بنتا ہے-تیزابیت ہڈیوں اور دانتوں کو گھول کر رکھ دیتی ہےکھانے کے دوران ان مشروبات کے استعمال سے ہاضمے کے مددگار کیمیائی مادے تحلیل ہوکرمعدے پر مزید بوجھ ڈال دیتے ہیں جس کی وجہ سے معدہ جلد ہی جواب دے جاتا ہےانہی وجوہات کی بنا پر معدے میں کیمیکل  اور دیگر زہریلے مادے بنتے ہیںجو انتڑیوں میں جذب ہوکر جسم کو وقت سے پہلے بوڑھا کردیتے ہیں۔
2-فاسفورک ایسڈاس کا تیزابی مادہ ہمارے جسم کی ہڈیوں اور دانتوں سے کیلشیم کے مادے کا اخراج کرتا ہے۔ مسلسل استعمال سے ہڈیوں کی شکست وریخت ہونےکی وجہ سے ہڈیوں کا درد‘ کمر کا درد اور بعض اوقات معمولی چوٹ سے ہڈیوں کا ٹوٹ جانا عام علامت ہے۔ 
3-کیفین یہ اعصابی نظام کو تحریک دینے والی نشہ آور دوا ہے جس کے استعمال سے آدمی وقتی طور پر بیدار‘ تازہ دم اور خوشی محسوس کرسکتا ہےپانچ چھ گھنٹے میں اس کا اثر ختم ہونے پر کمزوری‘ سستی‘ اضمحال اور بوریت محسوس کرتا ہے۔ کیفین کے زیادہ استعمال سے ہیجان‘ بے چینی‘ رعشہدل کی دھڑکن کا بڑھ جانا-
4سوڈیم بینزوئیٹ یہ مضر کیمیائی مادہ مشروبات کو سڑنے سے روکتا ہے لیکن اس کاکثرت سے استعمال ہائی بلڈپریشر کا باعث بنتا ہے۔
5- شوگرجو ان مشروبات میں شامل ہوتی ہے  کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ یہ انسولین کی مقدار خون میں بڑھا دیتی ہےجس سے گروتھ ہارمونز یعنی وہ ہارمونز جو جسم کی نشوونما اور بڑھوتی کا ذمہ دار ہوتا ہے کی پیداوار رک جاتی ہے۔ جس سے دفاعی نظامکمزور ہو جاتا ہے۔ انسولین جسم میں چکنائی کو ذخیرہ کرنے کی صلاحیت بڑھادیتی ہے جو وزن میں اضافے کا سبب بنتا ہے۔شوگر دماغی نظامکو کمزور کرتی ہے جس سے تمام بیماریوں کو حملہ آور ہونے کا موقع مل جاتا ہے۔ یہ نمکیات کے توازن میں خلل پیدا کرتی ہے۔دانتوں کو خراب اور کمزور کرتی ہے۔ بال جلد سفید ہونا، کولیسٹرول میں اضافہ سر درد کا باعث بنتی ہے۔ جب آپ چینی کا زیادہ استعمالکرتے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ وٹامن سی کو خون سفید خلیوں میں جانے سے روک رہا ہے اور اس طرح سے آپخود اپنے دفاعی نظام کو کمزور کر رہے ہوتے ہیں۔
 ان مشروبات کے پیالوں کو پیتے ہوئےان کے چند نقصانات کا ہی سوچ لیں تو نہ خود پیں نہ اپنے بچوں اوردیگر احبابکوبھی پلانے سے گریزکریں- سقراط نے سچ بول کر زہر پیالہ پیا تھا اور ہم ہنستے ہنستے سوڈا مشروبات کی شکل  میں ست رفتار زہر خود بھی پی رہے ہیں اور مہمانوں کو بھیاہتمام سے پیش کررہے ہیں -

3 تبصرے:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔