جمعہ، 6 مئی، 2016

یقین اُسی در سے ملتا ہے

3 تبصرے

مجھے یقین تھا میں پھر بُلایا جاؤں گا
کہ یہ سوال بھی شامل میری دعاؤں میں تھا
یہ یقین بھی اُسی در سے ملتا ہے ، وہیں سے عطا ہوتاہے اور یوں میں پہلی حاضری (حج) کے چھ ماہ بعد پھر وہاں حاضرتھا یقین کی دولت سے مالامال ہونے 
اپنی روح کو سرشارکرنے اُس کے کرم کا شکریہ ادا کرنے - کراچی میں دودن کے قیام کے بعد عمرے کے دس دن کے قیام کے لیے میں اور میرا چھوٹا بھائی جمعرات کی صبح مدینہ منورہ روانہ ہوئے سینے میں آرام بچھا  - وہ مقدس شہر  آقاﷺ کا شہر ، شہرِجاں ، شہرِ قرار گنبدا خضرا کا حسین اور سہانا منظرسرشاری سی سرشاری تھی - ہوائیں مانوس تھیں ، لوگ آشنا سارے ، روح میں بسے منظر آنکھوں کے سامنے - وقت عصرکا اورحاضری کا نماز ادا کی جنت البقیع کی بیرونی دیوار سے فاتحہ پڑھی سلام پیش کیا اور خاتون جنت سیدہ بی بی رضی اللہ عنہا سے عرض کی آپ کی  سفارش درکار ہے - کرم کے جھونکے آئے اور ہم دونوں بھائی  مسجد نبوی میں ریاض الجنہ جا پہنچے یونہی اچانک بناء کوشش کے کہ سفارش ہی ایسی تھی یقین سا یقین تھا - دو نفل ادا کیے اور سلام کےلیے روضہء آقاﷺ پہ پلکیں جھکا دیں کہ ادب کا تقاضا اور مقام یہی ہے - آقاﷺ کے روضے کے سامنے جو کفیت ہوتی اس کو بیان نہیں کیا جاسکتا - 
 میرے ماموں زاد بھائی کامران اور نعمان ریاض سے ہمیں ملنے دوسری صبح بروز جمعہ آپہنچے اور دو دن ہمارے ساتھ رہے - ہمارے پاس اب مدینہ منورہ میں دون تھے اچانک بخار نے آلیا ---- اب نہیں اس بار بخارسے نہیں گھبرانا چڑھتارہے اس کی کسے پرواہ -قیام کا آخری دن نیم غنودگی تھی بخارکی حدت میرے بھائی نے ماتھا چھوکرکہا میں مسجد جارہاہوں تہجد کے لیے تم آرام کرو----- نہیں میں چلتا ہوں آج ہی تو موقع ہے بیماری ہے ، بیچارگی کی اُوٹ ہے آج ہی تو عرض کا موقع ہے یہی تو کرم کی گذارش کے سنہرے پل ہیں چادر لپیٹی اور روضہ پاک پہ حاضرہوں تو التفات کا زیادہ مستحق بن سکتاہوں ، عرض کی آقاﷺ میں ناتواں ، کمزورہوں ، گناہ گارہوں ، شرمسارہوں ، بیمارہوں مجھے اللہ کے حضورآپ کی سفارش درکارہے آپ رحمت لعالمین ہیں - ندامت تھی ، نقاہت تھی ، ساتھ ہی اُمید بھی یقین بھی کرم ہوگا ---- آپ ﷺ کب کسی کوخالی بھیجتے ہیں - وہ حاضری وہ سلام بڑا پُرکیف رہا - یقین کی ، کرم کی دولت ملے تو جسم ہلکا پھلکا ہوجاتاہے - نماز فجرادا کی سلام وداع کیا گندخضرا کو - عمرے کی تیاری کے لیے جائے قیام پہنچے احرام باندھا میقات کی جانب چلے نوافل ادا کیے نیت کی - مکہ مکرمہ
پہنچے تو مغرب ہوچکی تھی سامان رکھ کے حرم شریف آئے ، نمازعشاء کے بعد عمرہ ادا کیا - وہ خانہ خدا جلوہ جاناں پھرسامنے اب پھر دل کو ، نگاہ سنبھالنا تھا کہ دوران طواف رُخ کعبہ شریف کی جانب نہیں کرتے ، طواف کیا تو میرے بھائی نے دیوارِ کعبہ کو چُھونے کا کہا ، ہم چل پڑھے ، قدم مطاف میں نہیں کہیں اور پڑرہےتھے ، پرکیسے لگتے ہیں معلوم ہوگیا - 
طواف کعبہ تھا ، بے خودی تھی ، اشکوں کی موج لگی تھی بہتے جاتے تھے یہ مقام ان کو پھرکہاں ملنا تھا - کرم مانگا ، سفارش مانگی تھی سب ملا اور یوں ملا کہ حیران کردیا - ایک سہانی صبح طواف کیا ، حطیم میں نوافل--- حطیم خانہ کعبہ کا حصہ اور میرا غلیظ وجود ایک جھرجھری آئی تھی کہ ایک باد سحرجھونکا سرگوشی کرتا ، تھپکتا گذرگیا - صفیں بننے لگیں نماز فجر کی ہم بھی کعبہ شریف کے قریب جابیٹھے لیکن --- اُٹھادیے گئے ملال آیا ہاں میں کہاں اوراللہ کہاں آپ کا یہ دربار میں کمی کم ذات کمینہ سرجھکا کے چل پڑے آجاؤ صف بن رہی ہے ساتھ کھڑے ہو، سامنے ملتزم تھا تیسری صف تھی امامت ڈاکٹر شیخ بلیل کررہے تھے
لہن تھا قرآن کریم کی تلاوت ، حلاوت ، شرینی ، سرشاری - نماز یوں بھی ادا ہوتی ہے؟ یہ قرب مجھے مل سکتا ہے اے اللہ میں یہاں ملتزم کے سامنے اتنا قریب ؟
لگا کوئی ہاتھ پکڑے کے نماز کے بعد ملتزم تک لے گیا ، میرے ہاتھ تھے؟ کعبے کا دروازہ میرے بھائی نے میراہاتھ اُونچا کیا کہ میں ملتزم کو چُھو سکوں ، کسی نے پیچھے سے دھکیلا سینہ دیوارکعبہ سے جالگا --------- سب اُڑچکا تھا سب غبار ہو گیا سب پیچھے رہ گیا ، میں تھا میرارب تھا - 
وہاں سے کب ہٹا کیسے ہٹا یادنہیں پھر وہی سرگوشی وہی ہوا کا جھونکا آیا دیکھ لو میں تم سے کتنا پیارکرتاہوں ------ اللہ اکبر اللہ اکبر اللہ اکبر یہ یقین دلایا مجھے میرے اللہ نے، یہ یقین کی  دولت لے کے میں آیا ہوں کہ --- اللہ ہم سے بہت پیارکرتاہے ، بہت پیار کرتا ہے --- مجھ سے آپ سے ، ہم سب سے ، میرے جیسے کم فہمی اور کورچشم کوپاس بُلا کے ، پاس بیٹھا کے بتاتا کہ میری سمجھ میں یوں ہی آناتھا اور سمجھ والوں کو آپ سے شکرگزاروں کو وہ آپ کے شہرمیں بیٹھے بٹھائے سمجھادیتاہے- 

بدھ، 30 مارچ، 2016

مذمت یوں نہیں ہوگی

1 تبصرے

ہم اس دور میں ہیں جہاں خبربریکنگ نیوزہوتی ہے ، تماشا ہوتی ہے ، تصویر اور فلم کی شکل میں ہوتی ہے - بُرائی  ، فحش بات ، گالم گلوچ ، تشدد کو دکھا کر پھیلا کر بلکہ دہرا دہرا کر اس کی مذمت کا نام دیا جارہاہے - امریکی نومسلم دانشور
شیخ حمزہ یوسف  کہتے ہیں "اُمت مسلمہ کو جب کوئی بُری بات معلوم ہوتی ہے ، کسی فتنے اور شرکا پتہ چلتا ہے تو اس کو پھیلانے میں جوش وخروش سے حصہ لیا جاتاہے یہ اندرکا شرہوتاہے جو دراصل مذمت کے نام پہ عام کیا جاتاہے"-
مجھے اس بات کو سمجھنے کے لیے سوشل میڈیا ، ٹی وی اور اپنا گریبان دیکھنا پڑا، اپنی اور اپنے دوستوں کی  فیس بُک کی ٹائم لائین  پہ نظرکرنی پڑی سب سامنے آگیا- 
کبھی قابل اعتراض اشتہار کو پایا مذمت کے نام پہ اور تو اب مولویوں کی گالیوں سے مزین وڈیو موجودہے - کبھی جنید جمشید کی زبان کی لغزش کو عام کرکے گستاخ گستاخ کہا ہے - بُرائی کو بدی کو جُزئیات کے ساتھ بیان کرکے تصویری شکل میں فلم کی صورت  دکھا دکھا کراس پہ برہمی ظاہرکی جارہی ہے -
سوشل میڈیا پہ حق گوئی کے نام پہ بیباک تبصرے اور شرمناک جملے صرف نوجوان نسل ہی نہیں پکی عمر کے جہاندیدہ بُڈھے بھی پیش کرتے ہیں - ہم انسانوں سے نہیں شرماتے فحش کلامی اوربُری بات کہتے ہوئے اس کو دُہراتے ہوئے تو اللہ سے کیا شرم کریں - منافقت نہیں کرتے یہ کہہ کر اس کی کو آرڑ بنا کر بدزبانی کرلیتے ہیں 
وہ لطیفے اور بہیودہ جملے سوشل میڈیا پہ لکھ دیتے ہیں جو کسی بھی محفل کے آداب اور اخلاق کے منافی ہوں - ابلاغ اورآزائ اظہار کے کا نام پہ ہم مغرب کی تلقید کرنا چاہتے ہیں جو کہ ان معاشروں کو بھی اخلاقی طورپہ نقصان دے رہے ہیں ان میں تو پھر قانون کا احترام ہے ، کچھ قواعد وضوابط ہیں ہم تو ان کو بھی خاطر میں نہیں لاتے اللہ کے قانون کو جانتے ہیں ، مانتے نہیں سمجھتے نہیں - نئی لہر جو چلی ہے اس  میں  اب  اخلاق واقدار کا زوال اب سماجی  مسئلہ ہے  کسی نوجوان کی سوچ ، مولوی کی زبان پہ اعتراض کیوں سند قبولیت تو ہم اسے عام کرکے بخش رہے ہیں وہ وہ بات شائع کررہے ہیں کہہ رہے ہیں جو کبھی قابل بیان نہیں تھی وہ اب ہماری روزمرہ تماش بینی ، خبررسانی اور سماجی زندگی کا حصہ بن رہی ہیں -  سوچنا ہوگا رُکنا ہوگا ورنہ یہ طوفان بدتمیزی سب کچھ بہا لے جائے گا اور نہ اخلاق وکرداراور نہ ایمان محفوظ رہے گا ہمیں دانستہ اور نادانستہ طورپہ بُرائی کو عام کرنے کا حصہ نہ بننے کا ارداہ کرنا ہوگا- اپنی زبان کی حفاظت کرنے ہوگی مذمت گالیاں دے کر یا سنواکر نہیں ہوسکتی اس کے بہت سے مناسب طریقے ہیں - 
آقاﷺ کا فرمان ہے

 "مومن نہ تو طعن کرنے والا ہوتا ہے اور نہ لعنت کرنے والا، نہ وہ فحش گو ہوتا ہے اور نہ زبان دراز"

(رواہ الترمذي: ۱۹۷۷، والبھقي في شعب الاإیمان: ۵۱۵۰، ۵۱۴۹)

دعا ہے کہ اللہ تعالٰی ہم سب کو ہدایت نصیب فرمائے اور شر سے محفوظ فرمائے -

بدھ، 3 فروری، 2016

بھلا بلاگر

2 تبصرے
 ایک  بھلا سا لڑکا بڑی مصعوم صورت والا آپ سے ملے گا آپ خوش ہوں گے اس کی خوش اخلاقی سے ، اس کی سادگی سے اورسب سے بڑھ کرکم گوئی سے آپ کو ہلاشیری ملے گی اس کو ایک سادہ لوح سابندہ جان کرکچھ رُعب اورعلمیت جھاڑنے کی مواقع نظرآنے لگیں گے آپ اگربلاگر ہیں تو مزید اس کو متاثرکرنے لگیں گے آپ اس کے کوائف اور ملازمت کے بارے جاننا نہیں چاہیں گے اس کو فہدکہیر کے دفتر کا کوئی چھوٹا سمجھیں ، اس کو چائے کا کہیں یہ مسکراکر حکم بجالائے گا اور پھر ہمہ تن گوش آپ کی گفتگو سننے لگے گا- آپ فہد کہیر کے کرک نامہ کی باتیں کریں اُرود زبان کی ترقی میں اپنا کردار بیان کریں یا اپنے اوصاف اور اپنے بلاگ کی مقبولیت کی باتیں کریں اس کو خاموش ہی پائیں گے - آپ اس کی بات سے اختلاف کریں گے تو یہ اس پہ اصرار نہیں کرے گا مؤدب اتنا کہ درست بات پہ بھی آپ سے بحث نہیں کرے گا -
کچھ ملاقاتوں پر معلوم ہوگا یہ ایک بلاگر اور کرک نامہ میں فہدکہیر کا شریک 
یہ بھلا لڑکا اب آپ کو بلا نظرآنے لگے گا اس کی ذہانت اس کے بلاگ پہ اس کی تحریریوں میں جھلکے گی ، اس کی مختصر اورمفید تحریریں آپ باربارپڑھنا چاہیں گے  اس کے ماحیولیات وسماجیات پر کام بھی آپ کو نظرآنے لگیں گے -اس کی کم گوئی میں آپ کوحُسن کلام کی سرگوشیاں سنائی دیں گی -
 اب اگرآپ سیدھے سادے اپنی نمائشی ذہانت اور شیخی خوریوں کو خیرباد کہیں اور اصل شخصیت پہ آجائیں تو اس کے دوستوں میں شامل ہوجائیں ورنہ چلتے پھرتے نظرآئیں کیونکہ یہ آپ کو علم تک نہیں ہونے دے گا کہ آپ صرف اس کے شناساؤں میں سے توہیں دوستوں میں سے نہیں----- لہذا اس بھلے بلاگر کو پہچان لیں اس کی خاموشی اور سادگی کی قدرکریں مجذوبوں سی کشش رکھنے والا یہ لڑکاذہین بھی ہے اور اپنے صبروسکون سے دلوں میں گھرکرنے کی صلاحیت بھی رکھتاہے -



جمعہ، 1 جنوری، 2016

ایک بچے کی کہانی

1 تبصرے
بہت سال پہلے کا قصہ  ہے ایک پانچ سالہ موٹے ، سانولے ، غبی اورپیٹو بچے کوکھانے پینے اورمحلے میں گھر گھرگھومنے کی سوائے کوئی کام نہ تھا صبح بیدار ہوتا تو اماں سے سوجی کا حلوہ کھانے کا تقاضا ہوتا جو پوراکیا جاتا باقاعدگی سے ماں نے روز اہتمام سے دوسرے بچوں کو اسکول روانہ کرنے کے بعد یہ ایک کام کواپنا ذمہ بنالیا یوں بچے کو روز سوجی کا لذیذحلوہ مل جاتا دوپہر تک وہ جی بھرکے کھاتا، ایک متوسط گھرانے میں یہ بچہ ضدی اورپیٹ پوجا کے سواء کچھ نہ جانتا اور چھوٹا ہونے کا بھرپورفائدہ اُٹھاتا رات کو بن مکھن --- یہ فرمائش ایسی ہوتی کہ کبھی پوری ہوتی کبھی ٹال دی جاتی لیکن اسے ضدکا ہنرآتا لہذا گھرکی چوکھٹ پہ لیٹ جاتا بطوراحتجاج ایسے میں پڑوس میں رہنے والے چچا اس کا یہ چسکہ پورا کرتے - لیکن صاحبو سیرپہ سوا سیر ہوتا ہے اس بچے نے اپنی حکومت میں پاکستانی حکمرانوں کی طرح بادشاہی اور مطلق العنانی چاہی کرپشن ، ہٹ دھرمی ، من مانی اور اپنے ہی پیٹ کو آگے رکھا پر اللہ نے اس پہ ایک شہزادہ لابیٹھایا ، اس سے پانچ سال بعد اس  دنیا میں آیا ، موٹو کو کوئی فکرنہ تھی ناہی اتنی عقل کے اب بادشاہی کادورختم ، ہسپتال میں بھائی کو دیکھنے گیا تو وہ انڈا کھاکرشہزادے کو نظرانداز کرکے فاتح سمجھ بیٹھا خود کو اجی ہوگا کوئی ہمارے اقتدار کو اس سے کیا خطرہ اپنی دھن میں لوٹ آیا ، محلے کے گھروں کا گشت کیا کہیں سے لڈو ، ٹافی ، اورکہیں سے بسٹک کھاکے کو موجیں مارتا رہا   محلے کے کئی گھرانوں میں کم گوئی اور اپنی مصومیت کے باعث ہردلعزیز بن چکا تھا لہذا کوئی فکردامن گیر نہ ہوئی - کچھ دن بعد شہزادہ گھر آگیا اس غبی نے کوئی توجہ نہ دی اپنی دنیا میں مست رہا پھر دن سرکنے لگے کانوں میں شہزادے کے حسن کے چرچے سنائی دینے لگے گھر میں تو سب ٹھیک رہا محلے میں شہزادے کو بناء کوشش کے مقبولیت حاصل ہونے لگی ، موٹو ٹھٹکا ہتھیار پھینک دیئے ، فرمائشیں موقوف اور دل میں شہزادے سے بیر پال لیا ، گورا ہے ہنہہ ہوگا، خوبصورت ہے ہوتا رہے ہم کو کیا موٹو جلنے لگا 
شہزادے کو مکمل نظرانداز کرتا لیکن وہ شہزادہ بھی بانکا تھا سرخ وسفید چمکتا دمکتا قدرت نے اُس کو موٹو سے بلکل مختلف صلاحیتیں عطا کی حُسن میں تو یوسف ثانی تھا ہی اطاعت وفرمانبرداری ، صبروسکون کا پیکربھی ، جمہوریت پسند شہزادے کے پاؤں پالنے میں ہی نظرآنے لگے اور لوگ اُس کے شیدا ہوئے اور وہ محلے کا لاڈلا بنا، موٹو نے کونا پکڑلیا پہلے گھرگھُسنا تھا بلکل ہی کام سے گیا - اس کو اب شہزادے سی کوئی قلبی لگاؤ نہ ہوسکا جلن بھی کسک سی رہی دھمیی سی انتقام سے خالی ، مارکٹائی کے بغیر - ڈرپوک اور بزدل تھا کندھے ڈھونڈتا تھا بڑے بھائی کا دامن پکڑے بہت سال گذارے پھر اُس نے عاجز آکے موٹو کے غبنی پن اورحماقتوں سے چڑکرجان چڑائی کسی حدتک -
اب موٹو تھا گھرمیں اور سامنے چمکتا چاند سا شہزادہ کہا جائے کیونکر نظرانداز کرے دل کڑا کرکے اُسے قریب جاکے دیکھا --- یہ کون ہے---- میرا بھائی---
شریکا ، غصہ ، حسد ، برادران یوسف کا سا ملال اورمنصوبے سب اُڑن چھو ---- یہ میرا بھائی ہے --- میرا چھوٹا بھائی اتا حسین اتنا سمجھداراتنا ذہین بس موٹو نے اس پہ تسلط جمالیا اب یہ اس کا بھائی تھا اس کا علاقہ ہاں بھئی کرو اس کی تعریف گاؤ اس کے حسن کے گیت سب میں  میرا حصہ ہے کیونکہ یہ میرا ہے -
 یوں موٹو نے پہلی بار اپنی عقل سے کام لیا اور باقی عمرشہزادے کی  عقل سے -اب سنتے وہ شہزادہ اُس موٹوکی عینک ، لاٹھی ، ڈکشنری ، encyclopedia ، اُس کا فخر اور اُس کے خوابوں کا امین ہے-

بدھ، 23 دسمبر، 2015

ہم کب ہم کب پہچانیں گے

2 تبصرے
فَإِنَّ خُلُقَ نَبِيِّ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم کَانَ الْقُرْآن.
’’حضور نبی اکرم صلی اللہ عليہ وآلہ وسلم کا خلق قرآن ہی تو ہے۔‘‘
(صحيح، مسلم، کتاب صلاة المسافرين وقصرها، 1 / 512، الرقم : 746) 
یہ حدیث ہم نے کئی بارپڑھی سنی ہوگی لیکن ----- اس پر غورکرنے یا حضوراکرمﷺ سے محبت کا دعٰوی کرنے عید میلاد النبی ﷺ منانے والے اور اس
کی مخالفت میں ایک دوسرے کو سرے سے مسلمان نہ ماننے والے دونوں فریقین 
اپنی ساری توانائیاں اور محنت ایک دوسرے کی مخالفت میں سرف تو کرسکتے ہیں لیکن عمل کرنے ، اعتدال ، درگزر اور خلوص کو نہیں اپنائیں گے - ڈھونڈ ڈھونڈ کر مخالف نکتے یہ ثابت کریں  گے کہ ہم ہیں سچے مسلمان - کسی نے شرک اور بدعت کا شور برپا کررکھا ہے تو کسی نے محبت رسول ﷺ کو صرف جشن منانے اورایک رسم  نبھانا ہی سمجھ لیا ہے - ہم نے کبھی قرآن کریم کو سمجھنے کی ضرورت نہیں سمجھی اسے ثواب کی خاطرپڑھا ہے عمل کے لیے نہیں اسی طرح حضوراکرمﷺ کی ذات اقدس کو آپ کی سیرت کو عقیدت کی نظرسے تو دیکھا ہے محبت کا دعویٰ بھی کیا لیکن اس کو اپنانے کی کوشش نہیں کی - آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں حلم، بردباری، تحمل، عفو و درگزر اور صبر و استقلال کی تعلیم دی۔ ان رویوں سے انفرادی و اجتماعی سطح پر سوسائٹی میں تحمل و برداشت جنم لیتا ہے۔ اسی تحمل و برداشت کے ذریعے سوسائٹی کے اندر اعتدال و توازن قائم ہوتا  ہے۔ یہ رویہ انسانوں اور معاشروں کو پرامن بناتا اور انتہا پسندی سے روکتا ہے۔ ایسا معاشرہ ہی عالم انسانیت کے لئے خیر اور فلاح کا باعث ہوتا ہے ۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اخلاق حسنہ میں سب سے اعلیٰ ترین پہلو ایک طرف حلم، تحمل، عفو و درگزر اختیار کرنا ہے اور آج ہم میں یہی نہیں - ہم عید میلاد النبی صلٰی اللہ علیہ وآلہ وسلم
ایسے ہی مناتے رہیں گے اور یوں ہی اس کی مخالفت کرتے رہیں گے کیونکہ ہم اسی طرح خود کو مسلمان ثابت کرسکتے ہیں-
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا 
 اَللّٰهُمَّ اهْدِ قَوْمِيْ فَاِنَّهُمْ لَايَعْلَمُوْن.
باری تعالیٰ میری قوم کو ہدایت دے یہ مجھے پہنچانتے نہیں ہیں۔
(صحيح مسلم، 4 : 2006، الرقم : 2599)
ہم کب پہچانیں گے اپنے آقا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو-

( اس تحریرمیں چند سطوراور احادیث  ماہنامہ منہاج القرآن کے ایک مضمون سے لی گئی ہیں)

بدھ، 25 نومبر، 2015

ان پڑھ

3 تبصرے
میں خود کوعلم دوست اورکتاب خواں سمجھتارہا ، مجھے یہ گمان رہا کہ کتاب سے میری محبت گہری ہے اورمیں علم کے حصول کے لیے کوشاں ہوں ، لاتعداد کتابوں کا مطالعہ کیا ہے - شاعری کی لطافتوں سے واقف ہوں جدید اورقدیم شعراء کا کلام پڑھا اور بہت سی غزلیں ، نظمیں اوراشعار ازبر ہیں اوراشعارکی تشریح اور ان کے پیچیدہ مضامین اورتشبہات کی تشریح باآسانی کرسکتاہوں - نثرکو سمجھتاہوں اورکلاسیکی نثرسے لے کرموجودہ دورکی ادیبوں کی تصانیف پہ سیرِ حاصل بحث مجھے بھاتی ہے میں نثر کے مختلف اسلوب سے واقفیت کا دعویدارہوں کسی نثرپارے کا ایک جملہ پڑھ کے بناء دیکھے ادیب کا نام جان لیتاہوں -تاریخ ہو یا فسلفہ میری دلچسپی کا سامان  ، علم نفنسیات ، سماجیات اور معاشیات کی کُتب بینی کا شائق ، سوانحی حیات اس لیے پسند رہیں کہ ان سے سبق سیکھ سکوں اور بڑے لوگوں کے حالات اور طرزِ حیات کو جان سکوں سمجھ سکوں- 
 کتاب کا مطالعہ میرے روزمرہ معمولات کا حصہ ہے روزانہ بس میں سفرکرتے ہوئے ، شام کو گھرآکرضرورکتاب پڑھتاہوں - کتاب پڑھے بغیرمجھے نہیں یاد میرا کوئی عام یا خاص دن گذراہو- اپنے ذوق مطالعہ کی تسکین کی خاطراپنی عادت کوقائم رکھنے کے لیے- کتاب بہترین دوست ہے وغیرہ وغیرہ میرے نوک زبان پہ ایسے جملے ہوتے ہیں ، اپنی کتابوں سے محبت کا دعویدار بھی اور ایک وسیع کلیکشن رکھتاہوں اپنے بُک ریک کو دیکھ پُھولے نہیں سماتا - 
فارسی اس لیے سیکھنے میں دلچسپی ہے کہ حافظ کا دیوان اس زبان میں ہے وہ پڑھ سکوں ، ترکی ، فرانسیسی اور روسی زبانوں کو سیکھنے کے لیے دل ٹرپتا رہا کہ کیسا علمی وادبی خزانہ ان زبانوں کی کتابوں میں ہے اس پہ دسترس پالوں - 
کیسی کیسی لگن اورچاہ ہے میں میرے دل ان کتابوں کو پڑھنے کی اسی پڑھنے کی چاہ میں ایک دن مجھ پہ آشکارہوا وہ بھید کُھلا دنگ رہ گیا -- میں --- میں ---میں
"ان پڑھ " ہوں --- عمر کہ اس حصے میں اس بات کا معلوم ہونا کسی طوفان سے کم تو نہیں نظریں جھکی جاتی ہیں کسی کو یہ معلوم ہوگیا تو؟ شرمندگی کی لہر اُٹھی تو پسینہ پُھوٹ بہا - 
کتاب سامنے موجود سمجھ نہیں سکتا ندامت سی ندامت ہے - ساری کتابیں پڑھ لیں سمجھ لیں لیکن ایک یہ کتاب ہی نہ سمجھی حروف پہ انگلیاں پھیریں لفظ پہچانے مگر معنی نہیں جانے ، نہیں سمجھے ، ایصالِ ثواب کےلیے اسے اُٹھایا ، رمضان میں اس کو باعث اجروثواب پایا لیکن ------ سمجھا نہیں اس کتاب کو چوما ، ماتھے سے لگایا جُزدان میں سجایا سمجھا نہیں - یہ جو دین ودنیا کی بھلائی سے لبریز ہے جس کاحرف حرف اُجالا اس سے اپنے تاریک دل ودماغ کو روشن کرنے کا خیال تک نہیں آیا - کلام الہی کو ہی نہیں سمجھا ، سمجھ کرپڑھا نہیں تو مجھ سے بڑھ کرجاہل اور ان پڑھ کون ہوگا -


وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْآنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِن مُّدَّكِرٍ (سورة القمر)


اور ہم نے قرآن کو سمجھنے کے لئے آسان کردیا ہے تو کوئی ہے کہ سوچے سمجھے-

میں سمجھنے کی کوشش میں ہوں ندامت سے شرمسارہوں اور میں ان پڑھ اس کی رحمت کا طالب ہوں اورحصول علم کے لیے اس کی کتاب کو سمجھنے کےلیے اس کے آگے دعاگو ہوں 

وَقُل رَّبِّ زِدْنِي عِلْمًا (سورۃ طٰہ)

اور دعا کیجئے کہ (اے پروردگار) میرے علم میں اور اضافہ فرما۔




ہفتہ، 31 اکتوبر، 2015

میرے ساتھ سوئے حرم چلو

5 تبصرے

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

هُوَ الَّذِي يُصَلِّي عَلَيْكُمْ وَمَلَائِكَتُهُ لِيُخْرِجَكُم مِّنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ وَكَانَ بِالْمُؤْمِنِينَ رَحِيمًا -(احزاب - الآية 43)

(وہی تو ہے جو تم پر رحمت بھیجتا ہے اور اس کے فرشتے بھی۔ تاکہ تم کو اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لے جائے۔ اور خدا مومنوں پر مہربان ہے)
سب کام اُس کی رضا سے ہوتے ہیں وہی خیال کو دل میں لاتااورخواہش بناتاہے اورپھرحرفِ دعاکی صورت لبوں سے اداہونے پرقبولیت کی سندبھی عطا فرماتاہے - مجھے الفاظ میں کیفیت کو بیان کرنا ہے اُس کفیت کو جو مجھ پہ اب تک طاری ہے اوراحباب کی فرمائش پراسے لکھنا ہے اور اس سے بڑھ کر مجھے اس تحریرکو اللہ تعالٰی کے شکرکےلیے ایک چھوٹی سے کوشش کی صورت پیش کرنا اور اُس کے اُن بندوں کاشکریہ اداکرنا ہے جنھوں سے اس عظیم سفرکومیرے لیے اللہ کے حکم سے آسان بنایا اور وسیلہ بنے کاروانِ حراگولڈن ٹریول  کے منوراحمدصاحب ، عمران سرور ، اویس احمد اورمحمداحسان شیخ اور دیگراحباب نے ہمیں ہر شکایت اور تکلیف سے بچائے رکھا اور یکسو ہوکر اس فرض کی بجاآواری کو سہل بنایا- میری خواہش عمرہ کرنے کی تھی لیکن بعض وجوہات کی وجہ سے التواء کا شکارہوتی رہی لیکن جب نیت حج بیت اللہ کی ہوئی تو آسانیاں اللہ تعالٰی نے یوں عطافرمائیں  کہ یقین مشکل ہوگا لگا ایک خواب ہے- مجھ پر وہ مہربان ہے اتنا مہربان اس کا اندازہ ہونے لگا - جب میں یہ سنتاتھا کہ حج کا بُلواآتاہے تو سوچتا تھا اللہ کے مقرب بڑے متقی لوگوں کو اللہ یہ سعادت نصیب فرماتاہوگا اُن کو جن کے اعمال مقبول ہوں گے جو کسی طورپرتو اُس کے مقرب ہوتے ہوں گے ، مجھے ان میں اپنا آپ نظرنہیں آتا- پھرخیال آیا وہاں جیب کترے بھی تو بُلائے جاتے ہیں  ، گناہ گاروں کو وہ وہاں بُلاکرموقع دیتاہے توبہ کا ، استغفارکا اور اپنی راہ پہ چلنے کا سنبھلنے کا - مجھے اپنی گناہوں کی گٹھری کو سرپہ رکھ کے ، ندامت کے ساتھ یہ سفرکرنا تھا اور میں نے کیا - مجھے مدینہ منورہ میں اپنے غلیظ وجود کو اُن کے قدموں میں رکھنا تھا جن کے اللہ تعالٰی نے فرمایا
( وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ)
مجھے اُن کی سفارش درکارتھی میں سیاہ رو اللہ کے سامنے کیسے جاتا ,میرے لیے رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ کے شہرکا سفروہاں کی حاضری پہلے منظورہوئی  میں محمدمصطفٰی صلی اللہ علیہ آولہٰ وسلم کے شہرمیں تھا اس شہرکی فضا اتنی معطرہے اس قدر سکون آوار ہے گرم ہوابھی یہاں کی جسم کوراحت بخشتی ہے - یہاں آکراحساس ہوا ہم پہ اللہ کا کتنا کرم ہے کہ اُس نے ہمیں مسلمان پیدا کیا - اپنے حبیب محمدمصطفٰی صلی اللہ علیہ آولہٰ وسلم کا اُمتی ہونے کا شرف عطاکیا-مدینہ منورہ میں پہلی حاضری تھی ہوٹل میں سامان رکھا تو مسجدنبوی سے عصرکی اذان کی صدائیں آرہی تھی بُلاوا فلاح کا پہلی بار اس صدا پر دل نے لبیک کہا ، میں مسجد کا راستہ نہیں جانتاتھا کسی سے پوچھ  کراُس جانب چلا تو ایک ہجوم تھا انسانوں کا جواُس طرف رواں تھا یہ میرے مسلمان بھائی تھے ان سے ایک ہی پل میں رشتہ بن گیا ، ازبک ، عرب ، مصری ، سوڈانی ، ترک ، ایرانی سارے اپنے حقیقی بھائی لگے یہ کرم کی پہلی بوندتھی -میں نے نماز مسجد کے صحن میں ادا کی اندرجانے کا حوصلہ ناپاسکا ، مغرب اور پھرعشاء وہی اداکیں- میں مسجد میں جاتاتو روضہ اقدس کے جانب جانے کی ہمت نہ پاتا - وہاں قیام کے دن ختم ہونے کے قریب تھے ایک روز یوں لگا کوئی ہاتھ پکڑکے اُس جانب لے گیا- اس قدر محبت وعجز میں رچے میرے مسلمان بھائی چہرے پہ میٹھی مسکراہٹ سجائےاُمتی اُمتی اخلاق سے چھلکتے حبت اورسلامتی میں لپٹے ہرجانب تھے یہاں-
 اصحاب صفاء کے مقام پرمیں اپنے نبی صلٰی اللہ وآلٰہ وسلم کے قدمین شریفین کی جانب بیٹھ کر اپنی ندامتوں کا، محرومیوں کا، کوہتایوں کا رونا رویاتھا ،میں آپ صلٰی اللہ وآلٰہ وسلم کے روضے کے رُخ مبارک کی خواہش کی تو حیدرآبادسندھ کے ایک نوجوان نے مجھے وہاں تک پہنچادیا میں اکیلا بھلا وہاں کیسے جاتا ، جالیوں کے سامنے سلام پیش کیا -
 میں اپنے آقاصلٰی وآلٰہ وسلم کے حضورشرمسارتھا ، سراُٹھانے کی سکت نہیں تھی پھر دل سکون سے بھرنے لگا یہ میرے آقا محمدمصطفٰی صلی اللہ علیہ آولہٰ وسلم کا درباراقدس ہے جہاں سے کوئی خالی نہیں آتا وہ سخی ایسے ہیں کہ روح کو سیراب کردیتے سکون کوقرار سے دل کو مالامال کرتے ہیں - اس شہرنے مجھے رنج والم سے آزاد کیا مجھے قرارعطاکیا-مدینے کا مزاج دھیما ہے ، اس میں جنت کا ٹکڑاہے تو ہوائیں بھی جنت کی سی ہیں -
مدینہ منورہ سے مکہ مکرمہ کا سفرتھا ایسے میں مجھے وہ تمام باتیں یاد آئیں جوسنی تھیں جومجھے سفرِ حج سے قبل اس کی مشکلات کا کافی احباب نے بتایاتھا اور تکالیف کا ذکرکیا تھا - میں اللہ کے گھرکے جانب سرجھکائے چلا ابیار علی میقات تھا جہاں سے عمرے کے نوافل اورنیت کرنی تھی - دو سفید چادروں نے مجھ سے فیشن کونشس کواپنے وجود پہ ڈالتے ہی حیران  کردیا یہ احرام دنیا کا بہترین اور قیمتی لباس بن گیا یہ اللہ کا برینڈنیم لباس ہے اس سے بڑھ کرکون سا برینڈ ہوگا - احرام جسم کو ہی نہیں ڈھانپتا روح کو بھی ستردیتاہے ، چھپالیتاہے سارے عیب سارے گناہ یہ کفن سا لباس - مجھ پرلازم ہوا اس کی پاکیزگی کو قائم رکھنا تاعمر کہ یہ جسم سے اُترا بھی تو روح سے پیوست رہے گا ، دعاکی تھی مولا مجھے اس کی توفیق عطا فرمانا مجھے اس کو دغاوں سے بچائے رکھنا اور استقامت عطافرمانا یہ آپ کے کرم سے ہی ممکن ہوگا-
میں نے حج کی تیاری کتابوں ، دستاویزی فلموں اورپہلے اس فرض کی ادائیگی کرنے والے احباب سے ، پڑھ سن کرکی اور یہ تیاری صرف اور صرف اپنے ذہن کو صاف رکھنے اورجسم کوآرام سے دور رکھنے اور مشکلات کے لیے خود کوتیارکرنے کے علاوہ اپنے جذبات میں توازن اوراعتدال کی کوشش تھی - مجھے کسی روحانی تجربے اورروح پرورمنظرکی طلب نہیں تھی فقط اللہ کے حضوراس کے گناہ گاربندے کی صورت میں پیش ہوناتھا اس سے معافی طلب کرنے تھی -
مکہ مکرمہ میں رات گئے پہنچے سامان کمرے میں رکھ کر حرم شریف جانا پہلا عمرہ ، پہلی زیارت ، پہلی حاضری کسی گھبراہٹ کاشائبہ نہ تھا یہ کرم مجھ پر میرے آقا محمدمصطفٰی صلٰی اللہ علیہ وسلم کا حاصل تھا ورنہ اس سے قبل تو ایک گھبراہٹ اور ہچکچاہٹ ہرنئی جگہ ، سفر ، مقام اور کام سے پہلے مجھے آگھیرتی تھی لیکن اب ایسا کچھ نہ تھا - سرجھکائے گروپ کے ایک ساتھی رشید صاحب کے پیچھے چلتے ہوئے مسجد میں داخل ہوئے ان کوکہاا جب خانہ کعبہ نظرآنے لگے تو بتایئے گا پھر کچھ دیرچلنے کے بعد ان کے کہے پہ سر اُٹھا کے دیکھا ----
یہ یہ یہ خانہ کعبہ ہے حیرت سے سوچا کچھ مایوسی ہوئی اس میں نہ تو کوئی کشش نہیں کوئی اپنائیت نہیں دل میں ملال آیا سیڑھیاں اُتر کر مطاف میں قدم رکھا طواف شروع کیا ، چکر دورسے شروع کیا لیکن یہ کیا ---- خانہ کعبہ ساتھ محسوس ایک ہاتھ بڑھاکے چھُولوں ---- قلب بدلتے ہیں جذبات یوں پلٹتے ہیں یہ اللہ کا گھراس قدر پُرکشش اوردل میں کسے آبسا چندلمحوں میں----- دوران طواف خانہ کعبہ کی جانب رُخ کرنا اور اسے دیکھنا منع ہے لیکن ------ میرا چہرہ اُدھر ہی گھوم جاتا اپنی بہن کے باربارکہنے پر کہ طواف کے دوان اُدھر چہرہ مت کرومیں با مشکل سامنے دیکھتا اور پھرچہرہ گھوم کے خانہ کعبہ کی جانب ہوجاتا- طواف ہمارے جسم نہیں کرتے یہ روح کا کام ہے وہ وجدمیں آکے چکرلگاتی ہے وہ جو امرالہی سے ہم پُھونکی گئی وہ صدقے اورقربان ہونے لگتی تو جسم کوساتھ لگالیتی ہے پھر جسم نہیں تھکتا ، بے آرامی ، رکاوٹ ، لوگوں کے رویئے اور دیگرباتیں وجودکھودیتی ہیں اب معاملہ رب کا اور روح کا ہے - طواف مکمل ہوا دونفل پڑھتے ہوئے نیت کی اور جب کہا منہ میراکعبہ شریف کی طرف تو نگاہیں اُٹھ گئیں اُس طرف وہ سامنے ہے آج تصورحقیقت میں موجودہے بچپن سے اب تک سیکھی نماز کی نیت اورادائیگی میں تصورہی کیا آج سامنے ہے روح اب پھروجدکرتی ہے نیت ہوگئی اب خانہ کعبہ کا یہ منظرمحفوظ کرلیا روح نے آنکھ میں تو آنکھ شکرانے میں نم توہونی ہی تھی - اب آب زم زم تھا معجزے کا پانی محبت کا ، قربانی کا ، اللہ کی رضا پہ راضی ہونے کا انعام جو حضرت اسماعیل علیہ السلام اور سیدہ ماں حضرت ہاجرہ کا انعام ان کے طٖفیل ہمیں عطا ہورہاہے - سعی قربان قربان جائیں اللہ کے انعاموں کے سیدہ بی بیحضرت ہاجرہ  کا عمل رہتی دنیا تک دہرایاجائے گا - سعی کے دوران مخصوص مقام پہ دوڑنے کا حکم ہے اور یہ حکم صرف " مردوں کے لیے ہے " اب ماں کا عمل بیٹے دہرائیں"- سعی کا عمل پیروں سے نہیں سروں سے اداکیا جائے تو بھی کم ہے -
حج محبت ہی محبت ہے بھائی چارے کا عمل ایثارکا نام اللہ کے ساتھ رابطہ بڑھے تو اس کی مخلوق سے پیاربھی بڑھ جاتاہے اس کو وہاں عام دیکھا جاسکتاہے حرم شریف میں میرے ساتھ ایک بزرگ بیٹھے تھے نماز کا انتظارتھا نگاہیں کعبہ شریف کی جانب تھیں وہ صاحب پوچھنے لگے آپ پاکستان سے ہیں میں کہا جی بڑی شفیق مسکراہٹ سے کندھے سے لگا ابھی میں ان کے لہجے سے اندازہ لگانے کی کوشش ہی کررہاتھا کہ کہنے لگے میں " ایسٹ پاکستان سے ہوں" میرے لیے یہ بات حیرت کا باعث تھی اورآج تک ملنے والے کسی بنگالی سے یہ نہیں سنی تھی میرے چہرے پہ حیرت دیکھ کرمسکراکے کہنے لگے بنگلہ دیش نا ایسٹ پاکستان ہی توہے
اللہ اکبر خطبہ حجۃ الوداع میں آقاصلٰی اللہ علیہ آؒلہ وسلم کا فرمان تمام مسلمان آپس میں بھائی بھائی سامنے عملی صورت میں تھا - 
پاکستان میں رہتے ہوئے اوراب بیرون ملک قیام میں ہمیشہ میرے لیے پاکستان کے خلاف کسی کی کوئی بھی بات سننا برداشت سے باہررہاہے مجھے سن کے آگ لگ جاتی ہے مجھے لگتا کسی نے میرے منہ پہ طمانچہ ماردیا - مجھے حرم شریف میں اللہ نے پاکستان کی فکرسے آزاد کرنا تھا دیگر فکروں کی طرح وہ بڑے اسباب بناتا بڑے اہتمام ہیں اس کے کوئی کام حکمت سے خالی نہیں - طواف چونکہ میں اپنی بہن کے ہمراہ کرتا رہا اور رش اور اُن کی طعبیت کے باعث خانہ کعبہ کے بہت قریب نا جاسکا - ایک دن اُن کے ساتھ معمول کے طواف کے بعد میں اکیلا دوسرے طواف کے لیے پہنچا بلکہ پہنچایا گیا - طواف کے ساتھ چکرخانہ کعبہ سے قریب سے قریب تر ہوتے مکلمل کئے اور پھر خانہ خدا کی دیوار کے قریب ہوا اوراسے ہاتھ لگاکے اپنے سوئے نصیب جگائے یوں لگا کسی نے ہاتھ پکڑلیا ہو اندرسے ہاتھ دیوارکعبہ سے لوہے کا مقناطیس سے لگنا محسوس ہوا گرفت تھی کسی کی میرے ہاتھوں پر بیشک بیشک وہ مجھے سے گرے ہوئے گناہ گاروں کو بھی اپنالیتاہے تھام لیتاہے وہی سہاراہے - میں اشکبارمحودعاتھا سردیوار سے لگاکر ساری زندگی کے رونے رویا اپنے رب کے حضور - بڑی دیربعد اردگرد کی خبرہوئی اپنےساتھ ایک صاحب جن کا سرخانہ کعبہ کی دیوار سے لگا تھا ان کی آواز نے چونکایا ان کی دعائیں ساری التجائیں پاکستان کے لیے تھیں " اللہ پاکستان کی حفاظت فرما" اللہ پاکستان اوراللہ پاکستان ساری دعائیں انہی صداؤں میں تھیں مجھے اب بس آمین کہنا تھا باآواز بلنداللہ سے کہا وہی کردیں جو یہ کہہ رہا ہے - وہاں جہاں اپنے لیے دعائیں التجائیں ہوتی ہیں وہاں کوئی پاکستان کے لیے ہی گڑگڑارہا تھا رورہا تھا دل سکون واطمینان سے بھرگیا اللہ نے پاکستان کی سلامتی کا پیغام مجھ تک پہنچادیا اس شخص کی زبان سے اور فکر سے آزادکیا "ان شاءاللہ پاکستان سلامت رہے گا اوراس کا امن وسکون بحال ہوگا" سرگوشی دل نے کی 
اللہ اکبر- 
حج کے ایام سے قبل ہم علیحدہ کمروں میں مقیم تھے اپنے ساتھ گئے گروپ کے لوگوں سے زیادہ سامنا نہیں ہوتاتھا سب اپنی لگن میں خوداپنے آپ سے لاپرواہ بس 
رحمتوں میں بھیگ رہےتھے کون ہے کیسا ہے کسے اس کی ہوش تھی - سامنا ہوتا تو چندلمحوں کا اندازہ ہوتایہ شاید ہمارے گروپ میں ہیں سلام دعاہوتی سرراہ - پھر ہم عزیزیہ پہنچے منٰی کے قریب کی ایک رہائشی بستی میں یہاں چارمردوں اور چارخواتین کے علیحدہ کمرے تھے یعنی روم میٹ - میں اپنے کمرے میں پہلے پہنچا پھر نسیم کاکڑ، آصف بھائی اور اسحاق بھائی - میرےلیے یہ کمرے کی شراکت کا پہلا اور الحمدللہ بہترین تجربہ رہا - یہاں ادگراحباب سے بھی ملاقاتیں رہیں اورخوب رہیں - یہاں خوش اخلاق اورخوش لباس بوستان برادارن تھے ، ایک پیارادوست طٰہ  ملا ، نجم احمدصاحب کی صحبت نصیب ہوئی ، قاضی صاحب کا روشن چہرہ اورشاندارشخصیت سے قربت ملی ، ڈاکٹرمراد، باسط کھوسہ اور ان کے والد ، دادااوربھائی خلوص کے پیکرملے- ہرفرد "ایں ہمہ خانہ آفتاب است"
کی صورت نظرآیا - رشید صاحب ، افتخارصاحب اور ان کے عزیز جن کا نام تک میں نہیں جانتا اس قدر پیارسے ملتے رہے اوردل میں گھرکرگئے-
لبیک اللھم لبیک ،لبیک لاشریک لک لبیک 
ان الحمد والنعمة لک والملک لاشریک لک
آٹھ ذوالحجہ 
اب ہم نے حج کا احرام باندھا نیت کی نفل اداکئے اور منٰی روانہ ہوئے - یہاں کا ایک دن کا قیام  حدآرام دہ رہا پچاس کے قریب لوگ ایک خیمے میں تھے جگہ کم ضرورتھی لیکن تنگ نہیں دلوں میں جگہ والی بات یہاں صادق آئی تھی ہرایک دوسرے کے لیے جگہ بنانے میں پیش پیش تھا وہ منورصاحب ہوں ہمارے گروپ لیڈر یا عمران سرور - یہاں میں مفتی محمدنعیم صاحب کا ذکرکروں گا جوہمارے گروپ کے ہمراہ تھے مفتی صاحب کو اللہ تعالٰی جزائے خیردے قدم قدم پہ ہماری راہنمائی فرماتے رہے- عشاء کی نماز کے بعد ہم رات میں ہی رش سے بچنے کی خاطرعرفات روانہ ہوئے یہ -
نو ذوالحجہ 
 رات قیام کے بعد صبح ہوئی رحمتوں بھری صبح یوم حج کی صبح گناہوں سے معافی کادن ایک عظیم دن رحمتوں بھرا اللہ نے ہمیں عطافرمایا تھا - وقوف عرفہ زوال سے شروع ہوتاہے مغرب کی اذان تک جاری رہتاہے اللہ کے حضورگڑگڑانے کا وقت کی رحمتوں سے شرابورہونےکے لمحے دن گرم تھا بحد گرم  اور پیاس تھی منظرمیدان محشرساتھا ہرایک کو اپنے آپ کو بخشوانے اللہ کے آگے رونے کے سواءکسی چیز کی پرواہ نہ تھی گرمی تھی لیکن آج سورج کی تپش کو کون خاطرمیں لائے آج ہر سختی برداشت کرنا باعث رحمت تھا پھرکون گھبرائے-
 إنَّ اللهَ يُباهي بأهلِ عرفاتٍ أهلَ السَّماءِ ، فيقولُ لهم : انظروا إلى عبادي جاءوني شُعثًا غُبرًا  . صحيح ابن خزيمة   2839

بیشک اللہ تعالی فرشتوں کے سامنے اہل عرفہ کے تئیں فخریہ طور پر کہتا ہے : میرے بندوں کو دیکھو ! وہ کس طرح گردآلود و پراگندہ  بال ہوکر میرے لیے آئے  ہیں۔ 
 زندگی نثارکرنے والے دنوں میں ایک دن یوم عرفہ- آج یہاں مغرب تک قیام کرنا لیکن نماز اداکئے بغیرمزدلفہ روانہ ہوناتھا یہی اللہ کا حکم ہے - مزدلفہ کے قیام کی شب کنکریاں چننے اور عبادت کی شب -
دس ذوالحجہ 
فجرکی نماز اداکرکے منٰی جاناتھا شیطان کو کنکریا مارنی تھیں آج صرف جمرہ عقبی کوسات کنکریا مارنی دائیں ہاتھ میں کنکریاں اوربایاں ہاتھ سینے پہ مارکے اندر کےشیطان کو بھی للکارا- آج تجھے نہیں چھوڑنا مردود - کنکریاں مارنے کے بعد قربانی اورسرمنڈوانے کاعمل احرام کھولنا اور طواف زیارت - چونکہ ہماراقیام صرف بارہ ذوالحجہ تک تھا توہمیں طواف وداع بھی اسی روزکرناتھا-گیارہ اوربارہ کی رمی کے بعد بارہ ہی کو ہماری روانگی تھیٓ مجھے اس بات کا علم نہیں تھاکہ
ہم حج پہ جاتے ضرورہیں لیکن وآپس نہیں آتے ہیں وہیں کے ہوکےرہ جاتے ہیں
دل وہاں سے ایسا مانوس ہوتاہے کہ انھیں مقامات کا پہ فداہوتارہتاہے ساتھ نہیں آتا
حج میں مشکلات ہوتی ہیں  لیکن اس میں اس قدررحمتیں اوربرکتیں ہمارے دامن اوردلوں میں بھرتی جاتی ہیں کہ کوئی مشکل مشکل نہیں رہتی روکاوٹیں حائل ہوں بھی توراہیں جلدکُھل جاتی ہیں -ہمارے لیے اس حج کے فریضے کو آسان بنانے میں ہمارے میزبان کاروان حراگولڈن ٹریول کا اہم کردار ہے - میں چونکہ پاکستان میں نہیں تھا اورحج کے پیکجز اورکمپنیوں کے بارے سنی ہوئی باتوں کے باعث میرے کچھ تحفظات اورخدشات تھے - کاروان حراکا ہمارے ایک عزیزنجم بھائی نے بتایاتھا اس کے باوجود میرے خدشات اوراندیشہ موجود تھے - مدینہ منورہ میں ائیرپورٹ پر منوراحمدصاحب جو گولڈن ٹریول کے سربراہ اورکاروان حراکے لیڈرہیں ان ملاقات ہوئی ، پھرعمران سرورسے اوردیگران کے عملے سے جن میں فیصل , محمداحسان شیخ اورمنورصاحب کے صاحبزادے اویس شامل ہیں - یہ ان کا بزنس ہے لیکن ----- مجھے کہنا پڑے گا یہ اسے حجاج کی خدمت کی طرح کرتے ہیں مدرات اورمیزبانی ، پُرخلوص مسکراہٹ سجائے ہرفرد خدمت میں پیش پیش نظرآیا ان لوگوں نے کسی شکایت ، کسی کمی ، روکاٹ اورپریشانی کا ہمیں سامنا کرنے نہیں دیا توقع سے بڑھ کرحسن انتظام تھا - عمران سرور گولڈن ٹریول کا گولڈن بوائے سونے سا دل رکھنے والا مہربان لڑکا تن من دھن سے سب کی خدمت کرتارہا میٹھا لہجہ اس کو ممتاز اورہردلعزیزبناتاہے - احسان شیخ دھان پان سے لنگرتقیسم کرتے ہوئے آپ کو گھرسا ماحول اورآرام فراہم کرنے پہ معمور- اویس انتظامات میں بھاگ دوڑ کرتا نظرآیا - منورصاحب مسکراہٹ سجائے میزبانی اورخدمت میں ہمارے لیے تسکین کا باعث بنے ساراوقت ہمارے ہمراہ رہے -
 ان احباب کی خدمات اورسروس روپے پیسے سی ناپی تولی نہیں جاسکتی یہ اس سے کہیں بڑھ کرہے - گولڈن ٹریول بلاشبہ فریضہ حج کو آرام دہ اوریادگاربناکے اجرپارہی ہے - اللہ تعالٰی ان تمام احباب کوخیرکثیرعطا فرمائے -