ہفتہ، 4 جولائی، 2015

پہلا روزہ

13 تبصرے

ہمارے بچپن کے دور میں بچے بڑوں کے ساتھ اپنے شوق سے نمازپڑھنے چلے جاتے تھے ، تروایح مکمل نہ بھی پڑھیں لیکن مسجد باقاعدہ جاتے پوراماہِ رمضان - موضوعات اس ماہ میں کھانے پینے کی اشیاء نہیں بلکہ اپنے دوستوں میں روزوں کی تعداد ہوا کرتی-روزہ رکھنا ایک عزاز سمجھا جاتا اور دوستوں اور محلے میں معتبر ہوجانے کی علامت اس کو شمار کیا جاتا لہذا روزے رکھنے کا شوق نہایت کم عمری سے  پروان چڑھتا اوربڑھتاگھرمیں بڑے بہن بھائیوں کو دیکھ کر بھی اس صف میں شامل ہونے کی کوشش ہوتی- افطار میں ایک غیرمعمولی کشش محسوس ہوتی اور ماہ رمضان رونقوں کا مہینہ ہوتا ہرجانب خوب چہل پہل ہوتی -مجھے اپنے پہلے روزے کے نام پرفقط ایک فوٹوگراف یادہے جو اس موقع پہ قریبی اسٹوڈیو سے بنوائی گئی تھی جس میں میرے ساتھ میرا چھوٹاسابھائی ہے- مجھےاس تحریرکے لیے محمداسد کے حکم پرلکھنے کو کچھ یاد نہیں تھا اپنے پہلے روزےکے حوالے سے کچھ بچپن کے رمضان یاد تھے لیکن پہلا روزہ نہیں کچھ واقعات خودسے وابستہ والدہ سے کئی بارسنے جن میں ایک یہ ہے کہ جب مجھ سے کوئی پوچھتا کہ "روزہ رکھاہے" تو میں جواب دیتا"جی رکھا ہے ڈبے میں شام کو کھولوں گا" - سحری کے وقت کبھی بیدار نہیں ہواتھا لہذا صرف افطار دیکھا تھا اور روزہ رکھنا کھانے کی اشیاء کو ڈبے میں رکھ کرشام کو کھولنا سمجھتاتھا - پھر وقت کے ساتھ یہ تو سمجھ آگئی کہ روزہ ڈبے میں نہیں رکھا جاتا تو اصرارشروع کہ روزہ رکھنا ہے اس کی وجہ بیان کرچکا ہوں - مجھے آج اپنی بڑی بہن سے اپنے پہلے روزے کا پوچھنا پڑا تفصیل سے اس تحریرکے لیے - پہلا روزہ سات سال کیعمرمیں جمعۃ المبارک کا رکھا چونکہ مجھ بھوک برداشت کرنے کی اضافی صلاحیت ہے لہذا والدہ کو اس کا یقین تھا کہ روزہ توڑوں گا نہیں اور بھوک کے باعث کھانے کا تقاضا بھی نہیں کروں گا - سحری پہلی باردیکھی تھی لہذا رات کے اس پہر جو کھلایا کھالیا جو ہدایات دی گئی ان پہ سرہلادیا-دن بھر میری والدہ کو صرف ایک خطرہ لاحق تھا مجھ سے وہ تھا ٹافیاں کھانے کا چسکہ جو ہم ایک ساتھ تین چار منہ میں ڈال لیتے تھے اور میری والدہ اس حرکت سے انتہائی عاجزتھیں لہذا بڑے بہن بھائیوں کو ہمیں  سارادن بہلانے اور ٹافیوں سے دوررکھنے کی ذمہ داری سونپی گئی- شام کو ہماری فرمائش پہ روایتی لباس کی بجائے والد صاحب کا ولایت سے بھیجا بدیسی لباس پہنایا گیا ہماری خواہش تو چھوٹے بھائی والی نیکربنیان پہننے کی تھی لیکن یاد دلاگیا کہ آپ کی روزہ کشائی ہے لہذا کچھ تو خیال رکھاجائے سمیت شرم وحیا یوں بھی نیکرکا سائز دیکھ کرہم نے اسے چھوٹے بھائی کے لیے ہی مناسب جانا- سُرمہ دُنبالے دار لگایاگیا خُوب جماکے بال سنوارے گئے تو ہم نے ٹوپی پہننے سے بھی انکار کردیا - ہار پھول پہنا کے چھوٹے ماموں کے ساتھ فوٹواسٹوڈیو یادگاری تصویربنوانے چھوٹے بھائی کو بھی ایک ہارپہنا کے ساتھ روانہ کیا گیا- مہمان نہیں بُلوائے گئے کیونکہ افطار پارٹی کا رواج نہیں تھا - افطار سے قبل مٹھائی اور سامان افطار محلے کے گھروں میں ہم اپنے بڑے بہن بھائیوں کے ہمراہ بانٹنے گئے اور کچھ نقد رقم وصول کی انعام کے طورپرمحلے کے گھروں سے -افطار میں ٹافیاں ہمارے اصرارکے باوجود نہیں رکھی گئیں لیکن مٹھائی خاص طورپرہماری پسندکی منگوائی گئی جو کہ اس افطار کا اہتمام تھی - اس کے بعد روزے معمول کے مطابق  رکھنے شروع کردیے اسی سال سے - جب تک میری والدہ حیات رہیں ماہِ رمضان میں میری کم ہوتی خوارک کے باعث جو اب تک ویسے ہی ہے انھیں یہ  فکرلاحق ہوجاتی یہ لڑکا نہیں بچے گا ہرروز ٹٹول کردیکھاکرتی - بچپن ماؤں کے ساتھ ہوتاہے لیکن جن کی مائیں  دنیا سے رُخصت ہوجاتی ہیں وہ اُسی روز بوڑھے ہوجاتے ہیں  چاہیے وہ عمرکے  کسی بھی حصے  میں ہوں کیونکہ پھرکوئی اُن کے بچپن کے واقعات نہیں دہراتا -
یہ گھمن صاحب کا شروع کیا سلسلہ ہے جس میں محمداسداسلم نے مجھے شامل ہونے کو کہا میں اس فرمائشی پروگرام کو مزید آگے بڑھاتاہوں ہوں اور 
فلک شیر
نیرنگ خیال
ابوشامل
حسان خان
سے درخواست کرتا ہوں کہ اپنے پہلے روزے کا احوال تحریرکریں

ہفتہ، 27 جون، 2015

اعتراف

7 تبصرے
اعتراف مشکل ہوتا ہےاور اس کا اظہار اس سے بھی کٹھن لیکن آج بہت سی آسانیوں ، سہولیات اور جون کے اس گرم دن میں اپنے خنک کمرے میں بیٹھ کر مجھے یہ مشکل کام کرنا پڑا اپنے ماتھے سے ندامت کا پسینہ خشک کرتے ہوئے جو نجانے کیسے پھوٹ پڑا - پاکستان سے باہر بیٹھ کر اس کے لیے فکرمند ہوتاہوں ، وہاں لوڈ شیڈنگ سے ساری رات بے حال اور بے چین ہوکر صبح کام پرجانے والے اپنے دوستوں کی تکلیف سے بے نیاز صحت ، صفائی کے جیسی بنیادی سہولیات کے فقدان سے پریشان اپنے محلے میں کچرے کے ڈھیروں سے اُٹھتے تعفن کو برداشت کرنے والے پاکستان میں رہنے والوں کو میں ماحولیاتی آلودگی پر لیکچردے سکتا ہوں ، شجرکاری کی ترغیب دیتا ہوں ، ان کو بے عملی اور غفلت پر سرزنش کرتے ہوئے یہ نہیں سوچتا آج انھیں  کن کن مصائب سے گذرنا ہے ، بس میں لٹک کر سفرکرکے گھرجانا ہے یا ٹریفک جام میں طویل انتظارکی کوفت اورشورمیں اپنی ہمت کو  کس طرح قائم رکھنا ہے میں اس کا اندازہ نہیں کرسکتا - ان کے روزمرہ مصائب اور تکالیف کاکیونکر احساس کرسکتا ہوں اپنے لیے فرار کی راہ چُن کر کس منہ سے خود کو محب وطن پاکستانی کہوں لیکن میری منافت مجھے شہہ دیتی میں ایک ترقی یافتہ ملک میں بیٹھ کر کسی سیاستدان کی طرح بیانات دے کر حقِ وطن ادا کرلیتاہوں -مجھے صبر اور استقامت کا درس دےکر اپنے اخلاص کا سکہ جمانا آگیا ہے - اپنے ملک میں رہ کراُلجھتے ، روتے ، حالات سے لڑتے اپنے دوستوں پرمجھے یہ ثابت کرنا ضروری ہوجاتا ہے ان مشکلات میں ان کے ساتھ ہوں یہ الگ بات ہے کہ یہ ساتھ میں ائیرکڈیشن میں  بیٹھ کر ان دھوپ میں جلتے ہوئے بجلی نہ ہونے  والوں کا اسی انداز میں دے سکتاہوں-میں اعتراف کرسکتاہوں لیکن معاف کیجیئے گا پاکستان آکر آپ کے ساتھ ان کٹھن حالات میں رہ نہیں سکتا -

جمعرات، 11 جون، 2015

بابا اشفاق احمد اور میں

10 تبصرے

کچھ مصنف ایسے ہوتے ہیں ان کی تحریر کو پہلی بار پڑھتے ہی   قاری کا ان سے قلبی رشتہ بن جاتا ہے - ایساہی قلبی رشتہ میرا بابا(اشفاق احمد) سےان کا افسانہ گڈریا پڑھتے ہی بن گیا جس وقت میں ساتویں جماعت کا طالب علم تھا ان کے افسانوں کا مجموعہ اُجلے پھول مجھے اسکول کے رستے میں قائم کتابوں کی دوکان دانش کدہ جو کہ راشد منہاس روڈپرہے وہاں سے ملا چونکہ اُس عمرمیں ماہانہ جیب خرچ ملنے لگا تھا لہذا اُس میں یہ کتاب باآسانی خریدلیکیوں خریدی معلوم نہیں شاید اُس کے سرِورق پربنے سفید اور پیلے پھول اچھے لگے یا مصنف کا نام مانوس تھا ، یا ٹی وی کے طویل دوارنیے کے ڈراموں کے حوالے سے شاید بابا کا ایک ڈرامہ ننگے پاؤں کچھ کچھ سمجھ میں آیا تھا یا توتا کہانی کے کسی کھیل نے متاثرکیا تھا، ماما سیمی کے مکالمے ذہن میں تھےیا کچھ اور یقین سے نہیں کہہ سکتا - گھر میں نسیم حجازی اور ابن صفی کی کتابیں موجود تھی لیکن افسانوی ادب کی کوئی کتاب نہیں تھی - اُجلے پھول میں پہلی ہی کہانی گڈریا پڑھی اور باربار پڑھی اور کافی عرصے تک اُس میں سے کچھ اور نہیں پڑھا - اس کے بعدبابا کے ڈرامے دیکھنے کا شوق ہوا اس سے قبل جو ڈرامے دیکھے تھے بس یونہی دیکھے تھے اُس وقت کوئی چوائس نہیں تھی اور تمام گھروالے ٹی وی ڈرامے دیکھا کرتے تھے - بابا کے جملے بڑے بھاتے تھے اُن کے کردار خود سے ہم کلام ہوتے تھے - وقت کے ساتھ بابا کی ذات میرے لیے گھر والوں سی ہوگئی اُن کا لکھا مجھے اپنے ارگرد رچا بسا نظرآیا - وہ دور میری خاموشی ،  تنہائی اور اُداسی  کا دورتھا اسکول میں دوست نہیں تھے جو ہم جماعت تھے ان کی باتوں میں دلچسپی نہیں تھی لہذا بابا کی ایک بعد ایک کتاب پڑھتا گیا - میٹرک کے بعد بانو آپا کو پڑھا تو بابا سے قربت اور محبت مزید بڑھی اب ان کی کتابیں پڑھتا ان کے گھر جا نکلتا داستان سرائے کے کھلے دروازے سے ہوتا اندر جا پہنچتا یہاں ٹی وی دیکھتے اثیربھائی ( باباکے چھوٹےصاحبزادے) ملتے آگے انیس اور انیق بھائی گفتگو کرتے نظرآتے ان کے ساتھ ممتاز مفتی تکیے سے ٹیک لگائے نیم دارز ہوتے- بانوآپا کھانے کا اہتمام کرنے میں مصروف ہوتیں ، میں بابا کو کھوجتا ان کے کمرے میں جا نکلتا جہاں ہوئے مطالعے میں مصروف ہوتے میں گھر کے ایک فرد کی طرح بے تکلف وہاں ایک کرسی پہ بیٹھ کراُن کی کتاب پڑھتا- یہ اکثرہوا اب بھی یہی محسوس ہوتا ہے میں نے بابا کی ہرکتاب ان کی یا بانوآپا کی موجودگی کومحسوس کرکے پڑھی ہے -مجھے بابا کی کتابیں نجانے کہاں کہاں سے ملتی رہیں لیاقت آباد کے ایک بُک اسٹال سے 1995 میں اُن کی پنجابی نظموں کی کتاب مل جاتی جو کہ نایاب ہے -کراچی میں فرئیرہال کے کُتب بازار میں بابا کے جاری کردہ رسالے داستان گو کا جنوری 1960 کا ایڈیشن پُرانی کتابوں میں مل جاتاہے تو لاہورمیں سنگ میل کے دفتر سے توتاکہانی یہ کہہ کردی جاتی یہ ہمارے پاس آخری کاپی تھی اور ساتھ ہی سیون اَپ کی بوتل پلائی جاتی تو میں جان لیتا ہوں میرا رشتہ بابا سے خاص    ہے اور اسے سب محسوس کرلیتے ہیں ویسے ہی جیسے میرے والد نے 7ستمبر 2004 میںپاکستان سے فون کرکے بتایا تھا " اوجہڑا بابا سی نا اشفاق احمد او آج فوت ہوگیا اے" مجھے اطلاع میرے والد نے فون پہ یوں دی جیسے کسی عزیزکی وفات کی خبرہو ویسے ہی جیسے انھوں نے فون پرمیری والدہ کے انتقال کی خبردی تھی - میں اپنے والدین کے سفرآخرت کے مراحل میں شریک نہیں ہوسکا ان کی نماز جنازہ نہیں پڑھی وہ اُن کی تدفین کا مرحلہ نہیں دیکھا لہذا مجھے وہ ہمیشہ اسی دنیا میں محسو س ہوتے ہیں میں کبھی یہ نہیں محسوس کرتا اُن کا انتقال ہوگیا ہے- میں یہاں ہوں تو لگتا ہے وہ پاکستان میں ہیں اور وہاں جاکے محسوس ہوتے وہ امریکہ گئے ہیں - یہی احساسات میرے بابا کے لیے ہیں  ہمیشہ ایسا ہی لگتا ہے وہ اسی دنیا میں موجود ہیں -ان کی کتابیں پڑھوں تو وہ مسکراتے ہوئے ساتھ آبیٹھتے ہیں - دلچسپ بات یہ ہے اُن کی کتابیں میں اُردومیں پڑھتا ہوں لیکن وہ گفتگو مجھ سے پنجابی میں کرتے ہیں میرے والدین کی طرح - "کاہنوں جان کھپانا ایں نکیاں نکیاں گلاں توں اللہ خیرکرے دا"یہ کہہ کرمسکراتے ہوئے میرے پاس سے کوئی کتاب اُٹھا کردیکھنے لگتے ہیں - 

منگل، 9 جون، 2015

ایک خبرہی توہے

2 تبصرے


جب کسی بچے کی علاج نہ ہونے کے سبب انتقال کی خبرپڑھنے سننے کو ملتی ہے ذرا سا ضمیرسراُٹھاتاہے پھرہم حکومت کوکوسنے دےکراسے خاموش کرادیتے ہیں - حالانکہ ان معصوموں کو جنھیں علاج کی سہولت نہیں مل پاتی ان کی موت کے ذمہ دار ہم بھی ہوتے ہیں ہم جن کو ان کی مدد کی توفیق نہیں -ہمارے اردگرد بے بس اورلاچار افراد سرجھکائے نم آنکھوں سے زندہ لاشیں بنے پھرتے ہیں ، دفاترمیں ، مساجد میں اورہمارے گھریلو ملازمین میں جو ہم سے کبھی اپنے بچوں کی بیماری کا ذکرکرتے ہیں تو ہم پیزا آرڈرکرتے ہوئے ، ٹی وی پردلچسپ پروگرام دیکھتے ، اپنی وش لسٹ میں نئے سیل فون کا اضافہ کرتے ہوئے ان کی بات پر اول تو توجہ ہی نہیں دیتے اور جوذرا سن لیں تو ان کی بہانے بازی سمجھتے ہیں- فی زمانہ ہمارے اپنے بڑے مسائل ہیں جن میں جدید انٹرٹیمنٹ آلات کا حصول اور رات کے لیے فاسٹ فوڈ کا انتخاب سرفہرست ہیں-
پاکستان میں بچوں کو علاج کی مفت سہولیات، سرکاری ہسپتالوں اور پرائیوٹ پریکٹس کرنے والے معالجوں کا حال جاننے کے لئے کسی اعداد شمار کی ضرورت نہیں یہ خبریں بن کے سامنے آجاتے ہیں بے کسوں اور ناداروں کا حال بیان کرنے - ہم حکومت سے کس قسم کی توقع رکھتے ہیں جب ہم خود کسی کی مدد کرنے سے کتراتے ہیں اور ایک معیارِ زندگی اور رویہ اپنے لیے پسند کرتے ہیں تو دوسرا دیگر اپنے سے کم آمدنی والے لوگوں کے لیے - ہم تعلقات اور مفاد ات میں گھرے مجبور لوگ ہیں اور ایسے ہی مجبور سرکار اور سرکارے نمائندے ، سیاست دان اور ارباب اختیار- یقین جانیں وہ بھی ہماری طرح اپنی ذات کے حصارمیںگرفتار ہیں ان کے ہاتھ میں بھی کچھ نہیں وہ کسی کی دادرسی نہیں کرسکتے فرق صرف اتنا ہے ان کا رویہ واضح ہوجاتاہے اور ہماری منافقت اور بے حسی پوشیدہ رہتی ہے - ہمارے لیے ہرموت ایک خبرسے بڑھ کرنہیں ہوتیہم آسائشات ، خواہشات اور خودنمائی کی دوڑکے گھوڑے ہیں سرپٹ بھاگتے جنھیں پیچھے رہ جانے، گرجانے والے، زخمی ہونے والوں سے کوئی سروکارنہیں ہوتا ہم رُکیں گے تب جب خود گریں گے -ہمیں تو مذہب ہمدردی ، بھائی چارے اور شفقت اور دوسروں کے درد کا مدوا کرنے کی تلقین کرتا ہے تو یہ کسی اور کے لیے ہوتاہماری ذات پہ اس کا اطلاق نہیں ہوتا- میں دیکھ کر  حیران ہوتا ہوں امریکی معاشرے میں جم اوکانر جیسے افراد کو    جواسکول  میتھ کا ٹیچر ہے اور بچوں کے ہسپتال میں بطور والنتئیر کام کرتا ہے اور ناصرف بلامعافاضہ خدمات سرانجام دیتا ہے بلکہ سب سے زیادہ یہاں خون کا عطیہ بھی دیتا لیکن اس کی خبر اس کے طالب علموں اور اسکول کے عملے کو نہیں ہوتی جب اچانک  اس ہسپتال اس کا ایک شاگرد جاتاہے تو وہاں اپنے اسکول کا بتانے پر لوگ اسسے جم اوکانرکا پوچھتے ہیں "تم اُسے جانتے ہوگے" طالب حیران ہوتا ہے یہاں لوگ کیونکر اُس کے میتھ کے سخت گیر اُستاد کوجانتے ہیں جم اسکول میں اُصول ضوابط والا سخت اُستاد ہے جو تعلیم میں "فن" کو نہیں مانتا اور اپنے طالب علموں کو سختی سے توجہ علم کی جانب مرکوز رکھنے کیتلقین کرنے والا جم سونے کا دل رکھتاہے اور اپنا وقت معصوم بچوں کے لیے وقف کرتا ہے - یہ ترقی یافتہ معاشرے کا فرد ہے جس سے ہم بے انتہا متاثرہیں جن کی زبان ، ٹیکنالوجی ، فیشن ، موسیقی ، آرٹ اور اندازِ زیست ہمں بھاتا ہے ہم اس معاشرے میں ڈانلڈ ٹرمپ کی دولت کوتو دیکھتے ہیں لیکن جم اوکانر سے لوگ ہماری توجہ نہیں پاتے کیونکہ وہ انسانی ہمدردی کا بے شمار جذبہ تو رکھتے ہیں بے تحاشا دولت نہیں - ہمیں انسان سے اشرف المخلوقات بنانے اور اپنی ذات کے حصار سے باہر نکالنے والی کوئی صداسنائی نہیں دیتی خواہ وہ پانچ وقت فلاح کا بلوا ہو یاکسی معصوم کی علاج نہ ہونے      کے سبب موت کی خبر-

اتوار، 31 مئی، 2015

زہرپیالے

3 تبصرے



وقت کے ساتھ تیز رفتاری سے غذائیں اورمشروبات بھی نئی شکلوں میں سامنے آنے اور مقبول ہونے لگے اب ہم فرج میں سے کوک نکال کرخودبھی پیتے ہیں اور مہمانوں کی تواضع بھی کرتے ہیں-  یہ سوڈا مشروبات بچوں کو بہت بھاتے ہیں اور وہ ان کو دیکھ کرمچلنے لگتے ہیں - ایک وقت تھاان مشروبات کی اتنی مانگ نہیں تھی ہمارے گھروں میں ان کا آنا کبھی کبھار ہوتا تھا بات مہینوں پہ جاتی تھی - ایک کوک کی بوتل آتی تھی جس میںحصے لگائے جاتے اور چند گھونٹ بچوں کے حصے میں آتے - مہمانوں کو اکثر سکنجبین ، ٹھنڈا پانی، روح افزاء اور گھریلو مشروبات ،  گھر پہ تیارکردہ بادامکا شربت یا پھلوں کا رس پیش کیا جاتا - خاطرتواضع کے لیے بہت زیادہ تکلفات اور بازار کی اشیاء کا اہتمام نہیں ہوتا تھا - موسمی پھل لے کر دوسروں کےہاں جانا اور انھیں اپنے گھر میں بھی پیش کیاجاتا- 
 سادہ غذائیں اور مشروبات کے استعمال کی جاتی جو کم خرچ بھی اور فائدہ مند بھی تھیں - صعنتی ترقی اور تیزرفتاری نےہمیں  جھٹ پٹ اشیاء سے روشناس کرایاٹی وی اور اخباری اشتہارات نے ان کی اشتہا کو بڑھاوا دیا اور ہم نے اپنے گھروں میں سوڈا مشروبات کے لانا زیادہ شروع کردیا بازار کی تیار کردہ اشیاء کےمعیار اور حفضان صحت کے اُصولوں کو نظر انداز کیا - اب ہم سوڈا مشروبات کا استعمال پانی کے طرح کرتے ہیں مہمانوں کوگلاس بھر بھر کے پیش کرتے ہیں ، ہمارے بچے بھی اسے کثرت سے پیتے ہیں ، کئی گھرانوں میں تو شیرخوار بچوں کو ان کی دودھ کی بوتل میں بھی یہ مشروبات پلادینا کو ئی بڑی بات نہیںاب بیماریاں  عام ہیں بچوں سے لے کر بڑے تک ذرا سے موسم کی تبدیلی کو برداشت نہیں کرپاتے اورمعدافتی نظام کمزور ہونے کے باعث جلد علیل ہوجاتے ہیںجس کا ایک بڑا سبب ہمارے استعمال میں کثرت سےہونے والی غیرمعیاری غذائیں اور سوڈا مشروبات ہیں -سوڈا مشروبات کے  چند نقصانات پر ہی ہم نظر ڈال لیتے ہیں
1-کاربن ڈائی آکسائیڈقدرت اس زہریلی گیس کو جو خون کے ایک فضلے کی مانند ہے سانس کے ذریعے پھپھڑوں سے باہر نکالتی ہے لیکن پیپسی اور کوکاکولا میں پانی
میں اس گیس کو گزار کر جذب کیا جاتا ہے جسے ہم منہ کے ذریعے اپنے معدے میں اتار دیتے ہیں اس گیس کو پانی میں گزارنے کے فعل سے کاربالک بنتا ہے-تیزابیت ہڈیوں اور دانتوں کو گھول کر رکھ دیتی ہےکھانے کے دوران ان مشروبات کے استعمال سے ہاضمے کے مددگار کیمیائی مادے تحلیل ہوکرمعدے پر مزید بوجھ ڈال دیتے ہیں جس کی وجہ سے معدہ جلد ہی جواب دے جاتا ہےانہی وجوہات کی بنا پر معدے میں کیمیکل  اور دیگر زہریلے مادے بنتے ہیںجو انتڑیوں میں جذب ہوکر جسم کو وقت سے پہلے بوڑھا کردیتے ہیں۔
2-فاسفورک ایسڈاس کا تیزابی مادہ ہمارے جسم کی ہڈیوں اور دانتوں سے کیلشیم کے مادے کا اخراج کرتا ہے۔ مسلسل استعمال سے ہڈیوں کی شکست وریخت ہونےکی وجہ سے ہڈیوں کا درد‘ کمر کا درد اور بعض اوقات معمولی چوٹ سے ہڈیوں کا ٹوٹ جانا عام علامت ہے۔ 
3-کیفین یہ اعصابی نظام کو تحریک دینے والی نشہ آور دوا ہے جس کے استعمال سے آدمی وقتی طور پر بیدار‘ تازہ دم اور خوشی محسوس کرسکتا ہےپانچ چھ گھنٹے میں اس کا اثر ختم ہونے پر کمزوری‘ سستی‘ اضمحال اور بوریت محسوس کرتا ہے۔ کیفین کے زیادہ استعمال سے ہیجان‘ بے چینی‘ رعشہدل کی دھڑکن کا بڑھ جانا-
4سوڈیم بینزوئیٹ یہ مضر کیمیائی مادہ مشروبات کو سڑنے سے روکتا ہے لیکن اس کاکثرت سے استعمال ہائی بلڈپریشر کا باعث بنتا ہے۔
5- شوگرجو ان مشروبات میں شامل ہوتی ہے  کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ یہ انسولین کی مقدار خون میں بڑھا دیتی ہےجس سے گروتھ ہارمونز یعنی وہ ہارمونز جو جسم کی نشوونما اور بڑھوتی کا ذمہ دار ہوتا ہے کی پیداوار رک جاتی ہے۔ جس سے دفاعی نظامکمزور ہو جاتا ہے۔ انسولین جسم میں چکنائی کو ذخیرہ کرنے کی صلاحیت بڑھادیتی ہے جو وزن میں اضافے کا سبب بنتا ہے۔شوگر دماغی نظامکو کمزور کرتی ہے جس سے تمام بیماریوں کو حملہ آور ہونے کا موقع مل جاتا ہے۔ یہ نمکیات کے توازن میں خلل پیدا کرتی ہے۔دانتوں کو خراب اور کمزور کرتی ہے۔ بال جلد سفید ہونا، کولیسٹرول میں اضافہ سر درد کا باعث بنتی ہے۔ جب آپ چینی کا زیادہ استعمالکرتے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ وٹامن سی کو خون سفید خلیوں میں جانے سے روک رہا ہے اور اس طرح سے آپخود اپنے دفاعی نظام کو کمزور کر رہے ہوتے ہیں۔
 ان مشروبات کے پیالوں کو پیتے ہوئےان کے چند نقصانات کا ہی سوچ لیں تو نہ خود پیں نہ اپنے بچوں اوردیگر احبابکوبھی پلانے سے گریزکریں- سقراط نے سچ بول کر زہر پیالہ پیا تھا اور ہم ہنستے ہنستے سوڈا مشروبات کی شکل  میں ست رفتار زہر خود بھی پی رہے ہیں اور مہمانوں کو بھیاہتمام سے پیش کررہے ہیں -

ہفتہ، 30 مئی، 2015

اُردوسوشل میڈیا سمٹ کراچی فقط حوصلہ افزائی

6 تبصرے

فروری کے ابتدائی ہفتے میں مجھے کراچی میں جب عامرملک بھائی نے اُردوسوشل میڈیا سمٹ 2015 کا  بتایا تو زبان اُردو 
کے حوالے سے ہونے والے کراچی کے اجلاس پر دل نے لبیک کہا،  یہ ہماری قومی  زبان کے فروغ کے لیے
 اور بانیء پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے شہر کے لیے ایک خوش آئند بات تھی یہ میرے شہر کی ساکھ اور اس کی
رونقوں کی بحالی میں کرادار ادا کرنے کا منصوبہ تھا - میں نے عامر ملک ، محمد اسد اور فہد کہیر کی دمکتی آنکھوں میں اُس
بے لوث جذبے کو  واضح   طورپر محسوس   کیا   اور ان کے اخلاص کا بخوبی اندازہ ہوگیا تھا- اس کے انقعاد میں ابھی 
چند ماہ باقی اور کراچی میں میرا قیام مختصر یہ سوچ کچھ ملال لےکر آئی کہ میں اس میں شریک نہیں ہو پاؤں گا ابھی اسی
خیال میں تھا کہ  عامر بھائی نے ہمیں سوشل میڈیا سمٹ کراچیکی بیرون ملک نمائندگی کی پیش کش یوں ہم دور رہ کر بھی
اس میں شامل ہوسکتے تھے یہ اعزازی نمائندگی تھی اور ہمارے مزے بناء کچھ کیے ہمارا نام اس سمٹ کے ساتھ جُڑ گیا -
میرا خیال تھا یہ دیگر بلاگر اجلاسوں کی طرح سوشل میڈیا کو شامل کرکے کوئی سوپچاس افراد کا اجلاس ہوگا کیونکہ یہ
ابتداء تھی اور اس کی بہت بڑے پیمانے پر توقع اور وہ بھی ہمارے نوجوان دوستوں سے نہیں تھی --- لیکن جب 
ان لوگوں کی محنت دیکھی اور کراچی پریس کلب میں ابتدائی پریس کانفرنس نے یقین دلادیا یہ ایک تاریخی سمٹ ہوگا
پریس کانفرنس میں کاشف نصیر ،عمار ابن ضیاء ، شعیب صفدر گھمن ، فہیم اسلم اور وقار اعظم جیسے بلاگر کو دیکھ کر
واضح طورپر ان کے کردکھانے والا عزم اور زبانِ اُردو سے ان کی محبت اور سوشل میڈیا سمٹ سے ان دلی وابستگی
نے ہمیں بھی ہزاروں میل دور بیٹھ کر اس میں خود کو مکمل شریک محسوس کرادیا-
اب معاملات آگے بڑھ رہے تھے اور سوشل میڈیا پر خبروں سے دیگر شہروں سے شرکت کے لیے آنے والے 
معروف بلاگرز کی اطلاع مل رہی تھی- ساتھ ہی مشہورشخصیات کا اس سمٹ میں بطور مہمان اسپیکر مدعوہونا
بھی اس کی اہمیت کو ثابت کرنے کے لیے کم نہیں تھا دوسری جانب جامعہ کراچی کا اس کے ساتھ اشتراک گویا
ایک اور اعزاز تھا - شعبہء ابلاغ عامہ کے طلباء بلخصوص اور جامعہ کے دیگر شعبوں سے جن میں ویژویل اسڈیز 
کے طلباء کا اس سمٹ میں آنا اہم تھا کہ نئی نسل میں اپنی قومی زبان کی اہمیت اور اس کے فروغ اور سوشل میڈیا
میں اس کے کرادر کو ان کے سامنے پیش کرنا منفعت بخش تھا کے وہ لوگ اس سے خود بھی فائدہ حاصل کریں 
اور اُردو کی ترویج میں اپنا کردار کے ساتھ اپنے دیگر ساتھیوں کو بھی اس جانب راغب کریں گے-
لائیوں سٹرمنگ کا بے صبری سے انتظار تھا اور پاکستان کے معیاری وقت سے فرق کے باعث ہمارے پاس رات
کا پچھلا پہر شروع ہوگیا لیکن نیند آنکھوں سے کوسوں دور ہم سے دس بجے سوجانے والے کی بے صبر  نظریں
لیپ ٹاپ پرجمی تھی کچھ اسٹیٹس آرہے تھے تصاویر کے ساتھ پھر گھمن صاحب کا بشاش چہرہ نظرآیا ، وقار اعظم 
اور فہیم اسلم مہمانوں کے استقبال کے لیے دمکتے نظرآئے تصاویر میں - لائیوسٹمرمنگ سے آنے والے مہمان
بیرون شہروں سے شرکت کرنے والے بلاگر اور طلباء واساتذہ نظر آرہے تھے -
انتظامیہ کے ارکین کے محنت اسٹیج سے لے کرہال تک دکھائی دے رہی تھی یہ کام نوجوانوں کا نہیں بلکہ ماہرین
کا معلوم ہورہا تھا - عمار ضیاء  پروگرام کےمیزبان ان کی خوبصورتی کے ساتھ بہترین اندازاور لب ولہجہ بھلا کسے
نہیں بھایا ہوگا -مشہور ومعروف ہستیاں اور ان کے خطابات نے یہ ثابت کردیا یہ ایک غیرمعمولی نوعیت کا اور
کامیاب سمٹ ہے جو ایک نئے باب رقم کررہاہے -ایلن کیسلر سے محمد اسد کی گفتگو نے ہمیں سرشار کیاایک غیر ملکی
اور وہ بھی امریکی کو اُردزبان میں بات کرتے اس کی محبت کا دم بھرتے دیکھنا اور ان کا اس سمٹ میں شامل ہونا بڑی
بات تھی - ان کی تصاویر ہم نے صبح جاب پہ اپنے امریکی ساتھیوں کو معلومات کے ساتھ دکھائیں اور اولین مبارک باد
بھی انہی  سے پائی- بلاشبہ ہم سب میں ،آپ ، اس میں شرکت کرنے والے مہمان اور انتظامیہ سب مبارک باد کے 
مستحق ہیں -یہ ہمار اجلاس تھا ایک کامیاب اور منظم اجلاس اس میں یقنی طور پر کچھ کمی اور کچھ خامیاں بھی رہ گئی 
ہوں گی تو میں اس کا اعتراف کرتے ہوئے عرض کروں گا یہ سمٹ جنت میں منعقد نہیں ہوئی تھی اور دنیاوی امور 
میں اتناتو ہوسکتا ہی ہے - ہماری توقعات ، تبصرے ، تنقید ، شرکت ایک طرف اور ہمارے ان نوجوانوں کی کوششیں
 اورانتھک محنت دوسری جانب رکھی جائیں تو ہمیں وہ پلڑا بہت بھاری نظرآئے گا - ہمیں تو فقظ ان کی حوصلہ افزائی
ہی کرنی جوکہ مشکل کام نہیں اور اسی  حوصلہ افزائی کے سبب آئندہ منعقد ہونے والے سمٹ اس شہر اور
 دیگر شہروں میں فروغ پائیں گے- 
مجھے اپنے خیالات کوتحریری شکل دینے اور اور لکھنے میں تاخیر ہوئی تو سبب  وہ  الفاظ  تھے جو مجھے اپنے
ان دوستوں کو شاباشی اور مبارک باد دینے کےلے نہیں مل پارہے تھے - اللہ تعالٰی ہم سب کو اپنے ملک اور زبان
کی ترقی میں حصے لینے اور اسے اپنا سمجھ کے حصہ لینے کی توفیق عطا فرمائے - خلوص نیت سے کیا گیا ہر کام بھی
اس سوشل میڈیا سمٹ کراچی 2015 کی طرح کامیابی سے ہمکنار ہوگا -

جمعہ، 29 مئی، 2015

ہماری توجہ کے طالب پھول

4 تبصرے

تھیلسمیا خون کی کمی کی مورثی بیماری ہے - اس کی وداقسام ہیں تھیلسمیا مائینر اور تھیلسمیا میجر - اول الذکرمیں خون کے سرخ سیل کچھ کم ہوتے ہیں لیکن تھیلسمیا میجرمیں یہ انتہائی کم ہوتے ہیں اور اور مستقل کم ہوتے جاتے ہیں ان کو خون لگوانا پڑتا ہے جس پر ان کی زندگی کا انحصار ہوتاہے -اگر ماں اور باپ دونوں تھیلسمیا مائینر ہیں تو بچوں میں تھیلسمیا میجرکے امکانات بہت زیادہ ہوتے ہیں -تھیلسمیا‮ ‬مائینر‮ ‬کے‮ ‬لئے‮ ‬کسی‮ ‬علاج‮ ‬کی ضرورت‮ نہیں‮ ‬ہوتی،جب‮ ‬کہ‮ تھلسمیا‮ ‬میجر‮‬ بچوں کو‮ ‬ہرماہ‮ ‬خون‮ ‬بدلوانے‮ ‬کی‮ ‬ضرورت‮ ‬ہوتی‮ ‬۔‮ ‬جسکی‮ ‬وجہ‮ ‬سے‮ ‬خون میں  فولاد‮ کی‮ ‬مقدار‮ بڑھ‮ ‬جاتی‮ ‬ہے  ‬اس‮ ‬سے‮ ‬جگر‮ ‬کو
نقصان‬ ‬ہونے‮ ‬کا‮ ‬خطرہ‮ ‬ہوتا‮ ‬ہے۔‮ ‬خون‮ میں فولاد  کی زیادتی  کے ‬نقصان‮ ‬کو‮ ‬دور‮ ‬کرنے‮ ‬کے‮ ‬لئے‮ ‬دوائیاں‮ ‬دی‮ ‬جاتی‮ ‬ہیں ‬جس‮ ‬سے‮ ‬آئرن‮ ‬کی‮ ‬زیادتی‮ ‬میں‮ ‬کمی‮واقع‮ ‬ہو‮ ‬جاتی‮ ‬ہے-پاکستان میں 
ایک لاکھ سے زائد بچے اس بیماری میں مبتلا ہیںاور اس میں چھ ہزار  افراد   سال کی رفتار  سے اضافہ ہورہاہے-
 یہ تو تھی اس بیماری کی بنیادی معلومات جس کے بارے ہم میں سے اکثروبیشر احباب جانتے اور سنتے ، پڑھتے رہتے ہیں لیکن ہم اس کے روک تھام ،آگہی کا کام تو ایک طرف بنیادی انسانی فرض بھی ادا نہیں کرتے جو کہ خون کا عطیہ دے کیا جاسکتا ہے-طبی ماہرین کا کہناہے کہ ہمیں چاہئے کہ سال میںکم از کم دو سے تین بار خون کا عطیہ دیں تو صحت پر اس کے منفی اثرات مرتب نہیں ہوتے-خون کا عطیہ دینے والے افراد صحت مند رہتے ہیں  دنیا بھر میں خون کا عطیہ دینے والے افراد کی تعداد بہت زیادہ ہے لیکن افسوس کہ ہمارے ملک میں صرف تقریبا3سے4فیصد ایسے افراد ہیں جوکہ
 رضاکارانہ طور پر خون کا عطیہ دیتے ہیں جبکہ دیگر افراد کسی حادثات یا دیگر صورتوں میں خون عطیہ کرتے ہیں​-ہر وہ شخص جس کی عمر 18سے 50سالاور وزن تقریبا50کلو ہو وہ خون کا عطیہ دے سکتاہے​-اس کے علاوہ مالی تعاون سے ان بچوں کو ادویات اورخون کی فراہمی ممکن ہوسکتی -
ایک بچے کا اس بیماری میں ہرماہ خرچ دس ہزارروپے کے قریب ہوتا ہے جو غریب والدین تو ایک طرف متوسط طبقے سے تعلق رکھنےوالے افراد کے لیےبھی انتہائی مشکل ہوتاہے - ہمارے ہاں اس بیماری کا مفت علاج کرنے والے ادارے فنڈز کی کمی کا شکار رہتے ہیں جس کے باعث اکثرغریب بچوں کو مکمل علاج کی سہولت میسر نہیں ہوپاتیں اور ان بچوں کی موت واقع ہوجاتی ہے-بچوں کی تکلیف کے ساتھ اُن کے والدین کی اذیت کو ہم سمجھ ہی نہیں سکتے-
ہمارے گھر میں جب کوئی بچہ معمولی سا بیمار ہوجاتاہے توہم اس سے زیادہ تکلیف محسوس کرتے ہیں اور اس کا علاج فوری کرواتے ہیں کیونکہ اللہ تعالٰی نے ہمیں استطاعت عطافرمائی ہے - لیکن جب ہمارے دفتر یا گھریلو ملازم اپنے بچے کی بیماری کا بتاتے ہیں تو ہم توجہ نہیں دیتے اورمدد اور ہمدردی تو ایک طرف  اکثر اسے بہانے بازی سمجھ لیتے ہیں - بچے سب کے سانجھے ہوتے ہیں اور ان کیتکلیف ہر ایک کو محسوس کرنی چاہیے یہی انسانیت کا تقاضا ہے - اکثر ہم میں جذبہ بھی ہوتا ہے اور ہم  اس  کےتحت کچھ کرنا بھی چاہتے ہیں لیکن اپنی مصروفیاتمیں  بھول جاتے ہیں - تھیلسمیا میں مبتلا بچے موت سے ہرلمحہ جنگ کرتے ہیں اور ہماری توجہ کے طالب رہتے ہیں ہمیں ان ننھے پھولوں کو مایوس نہیں کرناچاہیے جن کے نازک بازؤں میں سوئیاں پوست ہوتی ہیں اور تکلیف سے دوچارہوتے ساتھ ہی ان کے نادار والدین جو در در دھکے کھاتے ہیں تاکہ اُن کی اولاد کی زندگی بچ جائے وہ  ہماری مدد کے منتظرہیں اور ہم اُن کی جانب متوجہ ہی نہیں کے ہمارے معمولی  مسائل اورتفریحات سے ہمیںفرصت ہی نہیں ملتی - تھلیسمیا کے سلسلے میں ہماری ذمہ داریا  ں بہت ہیں  اس سے متعلق آگاہی کو عام کیا جائے اور ان افراد کی مدد کی جائے جو اس میںمبتلا ہوچکے ہیں اور شدید مالی مسائل اورمشکلات کا سامنا بھی کررہے ہیں- آئیے  دامے درمے سخنے ان پھولوں کو مرجھانے سے بچائیں-